Home » Interesting News » ”امریکہ سب دیکھ رہا ہے “

”امریکہ سب دیکھ رہا ہے “

news-1461861172-1161_large

آنے والے وقت میں عالمی منظر میں پاکستان کا کردارغیر معمولی حیثیت اختیار کرنے جارہا ہے۔ روس،چین ،لاطینی ممالک،ایران سمیت کئی ملک امریکہ کے پاؤں سے ریڈ کارپٹ نکالنے کے لئے پاکستان کی مدد کے خواہاں ہیں اور یہاں سیاسی نظام تباہ کرنے کے لئے مختلف ایشوزکوہوا دے رہے ہیں۔پانامہ لیکس کا ایجنڈا اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ ابھی تک اس بات کو کریڈٹ کے طور پر اپنی طاقت باورکرارہا ہے کہ پاکستان دوسرے ملکوں کو توڑنے اور عدم استحکام کی صلاحیت رکھتا ہے اور یقیناً پاکستان کا امیج خراب کرنے میں اس سوچ سے زیادہ خطرناک کوئی اور بات نہیں ہوسکتی ۔تاہم پاکستان کی جغرافیائی اور ایٹمی اہمیت مسلمہ ہے لیکن یہ بھی اسکے اپنے نظام کار سے مشروط ہے۔امریکہ کی بالادستی سے چھٹکارا حاصل کرنے میںمصروف ملکوں کی فہرست کافی لمبی ہوسکتی ہے لہذا ایک صرف پاکستان پر قیاس کرنا عجیب صورتحال سے دوچار کردیتا ہے ۔پاکستان بھی امریکہ سے برابری کا خواہاں ہے ۔لیکن امریکہ کو توڑنا اسکا خواب نہیں ہوسکتا۔حالانکہ طویل عرصہ سے اپنے بے وفا دوست اوربدمزاج باس سے اسکی چومکھی جاری ہے۔ امریکہ کے مقابلے میں پاکستان چٹکی برابر ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے اسکو یہ چٹکی کاٹتی بہت ہے ۔امریکہ تلملاتا ہے اور اس پر پاکستان کی سرزنش کرتااور پھر لاڈ بھی اٹھاتا ہے لیکن پاکستان کی مستقل طور پرعزت کرنا اسے گوارہ نہیں۔اسکی وجوہات کئی ہیں لیکن ان میں زیادہ شدت جس وجہ سے پائی جاتی ہے وہ دہشت گردی کا عنصر ہے۔حالانکہ دہشت گردی کے معاملہ پر امریکہ کوپاکستان سے خفا نہیں ہونا چاہئے ۔امریکہ بھی تو اس ”کارِشر“ میں برابر کا شریک ہے۔امریکہ افغانستان کے بعدپاکستان کو دہشت گردوں کی بڑی مارکیٹ سمجھتا ہے لیکن وہ اس بات کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے کہ اس مارکیٹ کا سب سے بڑا بیوپاری اور سرمایہ کار وہ خود ہے۔ان تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بات ایک لمبی بحث پر بھی جاکر ختم نہیں ہوگی تاہم امریکہ علم کے ساتھ طاقت کی شدت کا اظہار کرنے کے فلسفہ پر یقین رکھتاہے ۔اور یہ دہشت گردی اور ریڈیکل اسلام کا فوبیا اسکا پسندیدہ ہتھیار ہے۔ اپنی قوت کے بہیمانہ استعمال سے پہلے وہ خود ایسی راہیں ہموار کرتا ہے جو اسے بعد ازاں ”اخلاقی“ جواز فراہم کرتی ہیں لہذا جہاں ”ظلم“ وہاں امریکہ ….کے مصداق ، وہاں پہنچ جاتا ہے۔اسی فارمولے کے تحت امریکہ نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو خصی کردیا ہے لہذا اپنی بالادستی سے ان ملکوں کے ساتھ ساتھ اس نے ترقی پذیر اور خاص طور پر مسلم ممالک کو تناؤ میں ڈال رکھا ہے جس کے بعد کوئی ملک چاہے بھی تو امریکہ کواسکے جرائم پرشرمندہ کرنے کی جسارت نہیں کرپاتا ۔ اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ امریکہ جن ملکوں سے سرمایہ لوٹتاہے انہیں خیرات دیکر ان کے ہر نظام کو اپنے سامنے جوابدہ بھی بنالیتا ہے۔لہذاامریکہ اپنے مفادات کی سولی پر ہرکسی کو چڑھاتا ہے اور دنیا میں کوئی بھی ”پرندہ“ اسکی اجازت کے بغیر پر نہیں مارسکتاہے۔ امریکی نے خود کہہ رکھا ہے” امریکہ کے مفادات اور اسکی سرزمین کوجس ملک سے خطرہ ہوگا،وہ براہ راست آپریشن کرنے کا حق رکھتا ہے“اس معاملے میں تو امریکہ کی نظر میں پاکستان بالکل ننگا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی 16 صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویزات اس بات کی گواہ ہےں۔جن کے تحت امریکی حکومت کو اختیار دیا جاچکا ہے کہ ”امریکی حکومت کسی بھی ایسے شہری کو ہلاک کرنے کے احکام جاری کر سکتی ہے‘ جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ القاعدہ یا اس نوعیت کی کسی بھی دوسری تنظیم سے تعلق رکھتا ہے“ان خفیہ دستاویزات میں یہ بھی تحریر ہے ” ایسے مشتبہ امریکی شہری کو چاہے وہ کسی بھی ملک میں ہو‘ ہلاک کرنے کیلئے امریکی اداروں کو انٹیلی جنس اداروں کی کسی رپورٹ کی بھی ضرورت نہیں“۔سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان ایسا کرنا چاہے تو کیا وہ اپنی سرزمین کے تحفظ اور مفادات کی خاطر کسی دوسرے ملک پر سرجیکل اٹیک کی جسارت کرنا سکتا ہے؟کیا امریکی قانون کی نظر میں وہ حق پر ہوگا؟ظاہر ہے کہ پاکستان کی اس حرکت کی سب سے زیادہ مخالفت امریکہ کرے گا اور ساری دنیاکو پاکستان کے خلاف متحد کرلے گا۔
امریکہ خود جن ملکوں پر سرجیکل اٹیک یا خفیہ آپریشن کرکے وہاں کے شہریوں کو قتل کرتا ہے ،دنیابڑے کمزورانداز میں امریکہ کے ایسے اقدامات کو ان ملکوں کی خودمختاری پر حملہ اور انسانی حقوق کی سنگین پر خلاف ورزیاں قرار دیتی ہے لیکن امریکا کی براہ راست اور بالواسطہ جارحیت کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہے ۔حالانکہ یورپی طاقتیں اندر سے امریکہ کی بدمعاشی سے خود بیزار ہیں لیکن جب سے امریکہ نے انہیں اسلامی فوبیا سے ڈرا کر اپنے ساتھ جوڑرکھا ہے ،مصلحتاً کوئی بھی یورپی ملک امریکہ کی سازشوں پر ردعمل ظاہر نہیں کررہا۔حالانکہ اسلامی فوبیا کی علمبردار دہشت گرد تنظیم داعش کے بارے میں بعض یورپی دانشور اسکو امریکہ کی ہی کارستانی قرار دے چکے ہیں اور اُدھر ممتاز امریکی یہودی دانشور نوم چومسکی بھی امریکی ریشہ دوانیوں پر دوٹوک رائے رکھتے ہیں ۔انہوں نے اپنی کتاب میں امریکہ کی بالادستی اور اسکی خرابیوں پر کافی روشنی ڈالی ہے ۔مثلاً وہ کہتے ہیں ”یورپ بھی امریکہ سے ڈرتا ہے لیکن چین نہیں ڈرتا“ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ اگر ایران کسی ملک میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتا ہے تو امریکہ کو برا لگتا ہے ،امریکہ کہتا ہے کہ اس سے ”عدم استحکام“ پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا امریکہ ایران کے ہمسائیہ ملکوں پر حملہ کرتااور وہاں پر قبضہ کرتاہے تواسکا یہ عمل ”استحکام“ پیداکرنے کا جواز فراہم کرتا ہے۔امریکہ کی نظر میں یہ ایک معیاری مفروضہ بن چکا ہے۔جو اسکی دوعملی کا نمونہ ہے۔اصل میں اس کامطلب ہے کہ ”دیکھو، ہم دنیا کے مالک ہیں۔اور اگر کوئی ہمارا حکم نہیں مانتا تو وہ بدمعاش ہے۔“
امریکہ کی بدمعاشی زبان زدعام ہے لیکن امریکہ مائنڈ نہیں کرتا کہ اسے کوئی بدمعاش کہے تو اسکا دل دکھ جاتا ہے۔لیکن وہ کسی ملک کو اپنے مفادات کے خلاف چلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔دنیا میں راج وہی کرتا ہے جو علم،دولت اور ٹیکنالوجی پر بالا دستی رکھتا اور انہیں تسلیم کرانے کے لئے پائیدارنیٹ ورکنگ سسٹم ڈویلپ کرتا ہے ۔چین ،روس ،ایران امریکہ کی بالادستی سے نجات کے لئے اب ایسا ہی سسٹم ڈویلپ کررہے ہیں اور وہ پاکستان پر کچھ زیادہ ہی مہربان نظر آتے ہیں۔ان کی نظر میں پاکستان خطروںکا ماہر کھلاڑی بن چکا ہے جوعلاقائی نظام میں تبدیلیاں لانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے ،لیکن اس عالمی بالادستی کی جنگ میں پاکستان کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے …. کیونکہ امریکہ سب دیکھ رہا ہے۔وہ چاہتا ہے پاکستان پینٹاگون کو ہی اپنا قبلہ بنائے رکھے ۔

Check Also

وائی فائی سگنل کوبجلی میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ

بوسٹن:  امریکی ماہرین نے ایک خاص مٹیریل سے آلہ تیار کیا ہے جو وائرلیس انٹرنیٹ اوردیگر …