Home » Pakistani Columns » Misc. » کرونا وائرس اور پاکستانی ۔ ابوذر علی #paksa #paksa.co.za

کرونا وائرس اور پاکستانی ۔ ابوذر علی #paksa #paksa.co.za

کرونا وائرس اور پاکستانی ۔ ابوذر علی

پاکستانی کرونا کو سنجیدہ نہیں لے رہے,۔ ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے جگہ ختم ہو گئی ہے ۔ تمام مریضوں کو وینٹی لیٹر نہیں دیا جا رہا کہ مریض زیادہ ہیں اور وینٹی لیٹر کم ۔ ابھی میں ایک ڈاکٹر کا آرٹیکل پڑھ رہا تھا خوف آ رہا تھا کہ حکمرانوں نے کرونا کے متعلق وری قوم کو کنفوژ کر دیا ہے ۔ ایک طرح ملک کا چیف جسٹس فرماتا ہے لوگوں نے عید پر نئے کپڑے پہنننے ہیں دوکانین بند نہیں کی جا سکتیں ۔ دوسری طرف وزیراعظم گمراہ کرتا ہے کرونا عورتوں اور بچوں کو کچھ نہیں کہتا اور عام سا فلو ہے جو گرمیوں میں ختم ہو جائے گا ۔ تیسری طرف درباری ملا طارق جمیل کرونا کے آغاز پر یہ درس دے رہا تھا رائے ونڈ تبلیغی اجتماع پر پابندی نہیں ہونا چاہیے ۔ صرف ان تین لوگوں کی باتوں کی وجہ سے جتنے لوگ وائرس کا شکار ہو کر مرے ہیں وہ تمام قتل ہوئے ہیں ۔

ہم ہر مسئلے پر ایک عجیب و غریب منطق پیش کرتے ہیں, من گھڑت مفروضے,علاج,ٹوٹکے اور غلط افواہیں پھیلا دیتے ہیں, جو گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔

معاشرہ کا ایک حصہ اس وباء کےحوالہ سے بقراط سقراط اور افلاطون بنا ہوا ہے ،جو یہ فلسفہ بیان کرتا ہے ، کرونا کوئی وبا ہے ہی نہیں صرف یہودیوں کی سازش ہے ۔

 

حیراں ہوں دل کو روں کے پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
یہ کیسی سازش ہے جو لاکھوں جانوں سمیت معیشیت کو بھی کھائے جا رہی ہے
کچھ ارسطو یہ فلسفہ بھی مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں کہ ڈاکٹرز ہر بیماری کے مریض کو کرونا کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں اور ہر مریض کے بدلہ امریکہ دس ہزار ڈالر دیتا ہے ۔ نیز مرنے والوں کے جسمانی اعضا نکال لئے جاتے ہیں ۔

یہ باتیں اسی مفروضے پر ہے جیسے پہلے ایک دوسرے سے پوچھا جاتا تھا کہ آپ کے کسی جاننے والے کو کرونا ہوا ہے اگلا کہتا نہیں حالانکہ اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بہت سے دوست احباب کے رشتے داروں کا کرونا پازیٹیو آیا ہے اور ہم خود ان کیلئے صحیابی کی دعاؤں کی پوسٹس بھی لگا رہے ہیں۔
اب یہ بھی وہی بات ہے کہ ہمارا احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ اب کرونا مریضوں کی اوسط تعداد بڑھ گئی ہے اور ہمارا میڈیکل سسٹم اتنا بوجھ نہیں اٹھا پا رہا ہمارے فرنٹ لائن کے مجاہد کرونا سے لڑ رہے ہیں تو دوسری بیماریوں میں مبتلا مریض ڈاکٹرز کی عدم توجہ کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں
یا جو بھی مریض کسی بھی بیماری میں آتا کرونا کے خدشے کے پیش نظر ڈاکٹرز حضرات کو جب حفاظتی کٹس مہیا نہیں کی جائینگی تو وہ کیسے میسحا بنے گا جان تو ہر کسی کو پیاری ہے۔

اللہ کے بندے ہوش کے ناخن لیں یہ اللہ کی ناراضگی اور عذاب ہے ہمیں رب کے حضور سجدہ ریز ہونے کی ضرورت ہے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا وقت ہے بجائے جگت بازی کے,
کیا آپ احتیاط تدابیر نہ کر کہ پاکستان کو اٹلی,امریکہ بنانا چاہتے ہیں پھر آپکو اس وائرس کا یقین آئے گا جب اللہ نہ کرے کسی کا پیارا سڑک پر سسک سسک کر تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے رہا ہوگا, گلی سڑی لاشوں اٹھانے والا بھی کوئی نہیں ہوگا
خدارا آج بھی وقت ہے کہ خود کو اور اپنے پیاروں کو احتیاطی تدابیر پر عمل کروا کر با شعور پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں.

مجھے قوی امکان ہے کرونا ختم ہونے کے بعد انشائاللہ جو زندہ افراد بچیں گے ان میں شعور آ جائیگا, زندگی گزارنے میں بہتری اور مثبت تبدیلیاں آئینگی

لوگ یہ جان چکے ہوں گے کہ اصل دولت صرف اور صرف صحت ہے جان ہے تو جہان ہے, زندگی سادگی سے بھی گزاری جا سکتی ہے,چند کپڑے، سادہ خوراک، اور سر پر چھت انسان کی بنیادی ضروریات ہیں۔
آپ کے اپنے صرف وہی ہیں جو چار دیواری میں آپ کے ساتھ موجود ہیں,باقی ایک ہجوم ہے۔
ہر انسان کی ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ ہے جسکا احترام لازم ہے اور ضرورت بھی۔

صفائی نصف ایمان ہے انفرادی اور اجتماعی ضرورت بھ ہیاور ایک انسان کا خود کو صاف رکھنا جتنا ضروری ہے اتنا ہی گھر، گلی، محلے اور معاشرہ کا صاف رکھنا بھی ضروری امر ہے۔
آپ سے بہت سے لوگ جڑے ہیں سماجی، معاشی اور جذباتی پہلوؤں سے اور آپ ان پر کافی حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔
توجہ کی سب سے زیادہ ضرورت بزرگوں، بچوں اور خواتین کو ہے۔
زندگی بھاگ دوڑ کا نام نہیں بلکہ ٹہراؤ میں بھی زندگی ہے۔
زیادہ تر مصروفیات دراصل خود ساختہ اور وقت کا ضیاع ہے۔
انسان کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے درحقیقت ہم ایک
نا نظر آنے والے virusکی مار ہیں تو غرور کیسا انا کیسی۔
ضروریات پوری کریں خواہشات تو لا محدود ہیں

Check Also

#paksa #paksa.co.za ملاقات ۔۔ ہارون الرشید