Home » Interesting News » #paksa #paksa.co.za ”مجھ سے بات کرنی ہے تو سیٹی بجاکر دکھاو “ ایک معروف اسلامی ملک کی لڑکیاں ایسا کام کرنے پر کیوں مجبور ہیں ،جان کر آپ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے اور پھر آپ سبحان اللہ کہنے پر بھی مجبور ہوجائیں گے

#paksa #paksa.co.za ”مجھ سے بات کرنی ہے تو سیٹی بجاکر دکھاو “ ایک معروف اسلامی ملک کی لڑکیاں ایسا کام کرنے پر کیوں مجبور ہیں ،جان کر آپ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے اور پھر آپ سبحان اللہ کہنے پر بھی مجبور ہوجائیں گے

لاہور(ایس چودھری )مردوں کو مخصوص انداز میں سیٹیاں بجاتے تو آپ دیکھتے ہی ہوں گے لیکن جواب میں اگر آپ کو کہیں عورتیں بھی سیٹیاں بجاتی نظر آنے لگیں تو جان لیجئے کہ سیٹیاں بجانے والے یہ لوگ محض متوجہ کرنے کے لئے ایسی حرکتیں نہیں کررہے بلکہ وہ ایک دوسرے سے اپنی زبان میں ہمکلام ہوتے ہیں ۔ہمارے معاشرے میں تو مردوں کا سیٹیاں بجانا انتہائی معیوب خیال کیا جاتا ہے لیکن ترکی کے شمال میں ایک ایسا گاوں ہے جہاں پانچ سو سال لوگ آپس میں بات چیت کے لئے ”سیٹی کی بولی“ بولتے ہیں ۔انہیں سیٹیاں بجاتے ہوئے دیکھ کرکوئی تصور بھی نہیں کرسکتا یہ انسان آپس میں باتیں کررہے ہیں یا پرندے چہچارہے ہیں ۔گاوں کی لڑکیاں ایک دوسرے سے سیٹی میں ہی بات کرتی ہیں ،ایسا نہِیں کہ انہیں قومی زبان نہیں آتی،وہ تعلیم ترک زبان میں ہی حاصل کرتیں اور زندگی میں بڑا مقام بھی پاتی ہیں تاہم اپنی سیٹی کی زبان بجاکر وہ فخر محسوس کرتی ہیں۔جب وہ کسی نوجوان سے دوستی ،محبت اور شادی کے بندھن میں بندھتی ہیں تو اس سے سیٹی کی زبان بولنے کا تقاضا بھی کرتی ہیں۔

ترکی کے صوبہ گرہ سون (Giresun ) کے گاوں کوسکوئی میں پرندوں کی یہ بولی عام ہے ۔تحقیق کے مطابق یہ بولی اب متروک ہوتی جارہی ہے ۔اب دس ہزار لوگ ہی رہ گئے ہیں جو اس بولی کا درست طریقہ سے ترجمہ کرسکتے ہیں ۔یونیسکو کی کی ایک رپورٹ میں ترکوں کی ”سیٹی کی زبان “ کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورتوں پر زور دیا گیا ہے ۔یہ دنیا کی نایاب ترین زبان ہے جو بچے عورتیں مرد کھیتوں گھروں بازاروں میں عام بولتے ہیں ۔جس وقت وہ سیٹیاں بجا رہے ہوتے ہیں تواردگرد پرندوں کے چہچانے کا احساس ہوتا ہے اورپرندے بھی انسانوں کو سیٹی کی زبان میں بولتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں ۔ترکی حکومت نے کچھ عرصہ پہلے اس بولی کے تحفظ کے اسکو سکولوں میں پوری طرح سلیبس کا حصہ بنانے کا اعلان بھی اس ایما پر کیا تھا تاکہ ترک اپنی تہذیب کے ہر رنگ کو محفوظ رکھ سکیں ۔

ماہر لسانیات کے مطابق ”سیٹی کی بولی“ میں اڑھائی سو الفاظ ہیں ،اسکا ترجمہ کرنے کے لئے اس گاوں کے باشندے ہر وقت حاضر ہوتے ہیں جو عہد حاضر کی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں لیکن اپنی بولی چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں ۔

ویڈیو دیکھیں

Check Also

#paksa #paksa.co.za چینی انجینئر رائیونڈ سے پسند کی لڑکی بیاہ کر لے گیا

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی …