Home » Interesting News » #paksa #paksa.co.za وہ ایشیائی ملک جس نے سکولوں میں پوزیشن سسٹم ختم کردیا، طالب علموں کے لئے سب سے بڑی خوشخبری آگئی

#paksa #paksa.co.za وہ ایشیائی ملک جس نے سکولوں میں پوزیشن سسٹم ختم کردیا، طالب علموں کے لئے سب سے بڑی خوشخبری آگئی

سنگاپور سٹی(نیوز ڈیسک)سکول جانے والے کمسن طالب علموں کی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی۔ اپنے بچپن کو ہی یاد کر لیجئے۔ پڑھائی میں اچھی کارکردگی دکھانے کے لئے دباﺅ کتنا زیادہ ہوتا ہے، یہ سوچ کر آپ شاید اب بھی دُکھی ہو جائیں گے۔ اور اگر آپ کے والدین کے کسی دوست، عزیز کے بچے نے کلاس میں پوزیشن لے لی پھر تو سمجھئے آپ کی زندگی بہت ہی مشکل ہو گئی۔ دیکھو فلاں کے بیٹے نے کتنے نمبر لئے، دیکھو اُس کی کلاس میں پہلی پوزیشن آئی ہے، وغیرہ وغیرہ! دن رات یہی باتیں سننے کو ملتی ہیں، اور اکثر بچوں کو تو والدین کی ڈانٹ ڈپٹ، اور بعض اوقات مارپٹائی کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتا ہے۔

اسے ہماری بدقسمتی کہہ لیجئے کہ ہم بچوں کی تعلیم کے جدید طریقوں سے ناواقف ہیں اور اس بات کو بالکل سمجھنے کو تیار نہیں کہ اُن کے ذہن پر بے جا دباﺅ ڈال کر اچھے نتائج نہیں لئے جا سکتے۔ ہم جیسے پسماندہ ملک کا کیا کہنا، بڑے بڑے اچھے ممالک میں بھی یہی معاملہ ہے۔ اس میدان میں البتہ سنگاپور سب پر بازی لے گیا ہے۔ طویل تحقیقات کے بعد بالآخر سنگاپور کی وزارت تعلیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سکول کے بچوں کے امتحان میں کتنے نمبر آئے اور انہوں نے کون سی پوزیشن لی، یہ سارا جھگڑا ہی ختم کر دینا چاہیے۔

ویب سائٹ ’سٹی نیوز روم‘ کے مطابق سنگاپور کی وزارت تعلیم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگلے سال سے بچوں کے رزلٹ کارڈ پر یہ بات نہیں لکھی جائے گی کہ وہ کلاس میں کس نمبر پر رہے، اور نہ ہی اُن کے حاصل کردہ نمبر بتائے جائیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد وزیر تعلیم اونگ یے کونگ نے یہ بتایا ہے کہ وہ بچوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ علم حاصل کرنا کوئی مقابلہ نہیں ہے کہ جس میں آپ نے ضرور کوئی پوزیشن حاصل کرنی ہے، بلکہ یہ آپ کی بہترین شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ ہے جس کے لئے آپ کو ساری توجہ اپنے علم میں اضافے پر رکھنی چاہیے۔

اس فیصلے کے تحت پرائمری اور سیکنڈری سکول کے طلباءکے رزلٹ کارڈ پر یہ نہیں بتایا جائے گا کہ طالب علم کی کلاس میں کون سی پوزیشن رہی بلکہ کلاس کے طلبا کے حاصل کردہ اوسط نمبر، سب سے زیادہ اور سب سے کم نمبر بھی نہیں بتائے جائیں گے۔ کوئی پاس مارکس بھی نہیں ہوں گے، یعنی کتنے نمبر لینے والوں کو پاس یا فیل تصور کیا جائے گا، یہ سلسلہ بھی ختم کردیا جائے گا۔ سالانہ امتحان میں کسی کو پاس یا فیل نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی طالبعلموں کے کل حاصل کردہ نمبر بتائے جائیں گے۔

اساتذہ بچوں کی تعلیمی پیشرفت کے بارے میں ان کے ساتھ گفتگو کی نشستوں کا انعقاد کریں گے، اور انہیں دیے گئے ہوم ورک اور کوئز سے ان کی پیشرفت کا اندازہ لگاتے رہیں گے لیکن یہ معلومات اپنے پاس رکھیں گے۔ والدین اور اساتذہ کی میٹنگ میں بچوں کی پیشرفت کے بارے میں والدین کو آگاہ کیا جائے گا اور جس معاملے میں بہتری کی گنجائش یا ضرورت ہوگی اس پر بات چیت کی جائے گی۔

وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ بچوں کے ذہن سے یہ پریشانی ختم ہونی چاہیے کہ انہوں نے دوسروں سے زیادہ نمبر لینے ہیں اور کلاس میں کوئی پوزیشن لازمی حاصل کرنی ہے ۔ ان کے ذہن کو دباﺅ اور پریشانی سے پاک ہونا چاہیے تاکہ وہ توجہ اور اطمینان کے ساتھ اپنی دلچسپی اور قابلیت کے مطابق نئی چیزوں کو سیکھ سکیں۔

Check Also

#paksa #paksa.co.za چینی انجینئر رائیونڈ سے پسند کی لڑکی بیاہ کر لے گیا

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی …