Home » Technology & Gadgets » آئندہ10سالوں میں روبوٹ فرنٹ لائن پر جنگیں لڑیں گے : ماہرین

آئندہ10سالوں میں روبوٹ فرنٹ لائن پر جنگیں لڑیں گے : ماہرین

robo

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)  روبوٹ ٹیکنالوجی  بہت مقبولیت کی حامل ہے جس میں پچھلے کئی سال سے تجربات ہو رہے ہیں۔روبوٹ کو فوجی بنانے اور ان سے کام کروانے کے لئے ماہرین اس پر محنت کر رہے ہیں اور اب ماہرین پر امید ہیں  کہ آئندہ 10سالوں میں روبوٹ فوجی جنگوں میں فرنٹ لائن پر  لڑنے کے لئے تیار ہوں گے جو جنگ کے میدانوں کا نقشہ  بدل دیں گے ۔
امریکہ اور برطانیہ میں روبوٹ  ٹیکنالوجی پہلے سے ہی استعمال کی جا رہی ہے جس میں ڈرون طیارے اہمیت کے حامل ہیں۔یہ ڈرونز اپنے نشانے پر حملہ کرنے کے لئے ہوا میں 14گھنٹے سے زیادہ پرواز کر سکتے ہیں۔فوجی روبوٹس بنانے کی اس کاوش میں چین  اور امریکہ سب سے آگے ہیں ۔فوجی روبوٹس بنانے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک دہائی میں یہ فوجی روبوٹس حقیقی فوج کے ساتھ جنگ میں لڑنے کے لئے تیار ہوں گے

robo

مصنوعی ذہانت کے مشہور ماہر مارٹن فورڈ نے روبوٹس پر بہت سی کتابیں لکھیں ہیں جس میں انہوں نے روبوٹس کی وجہ سے انسانی زندگی پر ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ فوجی روبوٹ جدید دور میں جنگوں کا تصور بدل دیں گے۔برطانوی اخبار ڈیلی سٹار  سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے روس روبوٹس اور خود مختار ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو گیا ہو اور چین  بھی کسی سے پیچھے نہیں رہ سکتا ۔جدید دور میں بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسانی فوجیوں کو اب سب سے آگے کھڑے ہوکر لڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ خود مختار ہتھیار ناگزیر ہوں گے کیونکہ یہ انسانی قوت سے زیادہ جلدی فیصلہ کرنے اور نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ہم یقینی طور پر اگلے 10سالوں یا شائد اس سے بھی پہلے یہ فوجی روبوٹس بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کا کہناتھا کہ آج کے دور میں جنگ زدہ علاقوں میں یہ خود مختار ہتھیار بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکہ میں ماہرین کی ایک ٹیم  پہلے سے ہی فوجی روبوٹس کے ڈیزائن بنانے کا کام کر رہی ہے تاکہ ان روبوٹس کو جنگ کے میدان میں اُتارا جا سکے۔جبکہ فوجی روبوٹس کے ماہرفورڈ کا کہنا ہے کہ امر یکہ کی آرمی اپنے موجودہ ہتھیاروں پر نظر ثانی کر رہی ہے تاکہ ان کو مستقبل میں کام میں لاسکے۔ یہ فوجی روبوٹس نہ صرف اپنے سپاہیوں کی بلکہ عام شہریوں کی زندگی بچانے میں بھی بہت کام آئیں گے۔یہ روبوٹس صرف ڈر کی صورت میں حملہ نہیں کریں گے بلکہ انسانوں کی نسبت زیادہ جلدی فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گے ۔ایک سوال میں ان سے پوچھا گیا کہ فوجی روبوٹس کے جنگ میں لڑنے سے کیا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔جس کے جواب میں فورڈ کا کہنا تھا کہ تشویش یہ ہے کہ فوجی روبوٹس کے جنگ پر جانے سے جنگی اخراجات بہت کم ہو جائیں گے۔

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

#paksa #paksa.co.za مارک ذکر برگ نے فیس بک کی سینئرمینجمنٹ کو آئی فون سے اینڈرائڈ فون پر منتقل ہونے کا مشورہ دے دیا

نیو یارک(آن لائن )سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے …