Home » Interesting News » افغانیوں نے طالبان کے نام سے منسوب جھوٹے خط خریدنے شروع کر دیئے؟ مگر کیوں؟ وجہ انتہائی دلچسپ

افغانیوں نے طالبان کے نام سے منسوب جھوٹے خط خریدنے شروع کر دیئے؟ مگر کیوں؟ وجہ انتہائی دلچسپ

news-1448295380-1342_large

کابل (نیوز ڈیسک)افغانستان میں طالبان کی طرف سے کسی عام شہری کو موصول ہونے والا دھمکی آمیز خط کبھی سزائے موت کے مترادف سمجھا جاتا تھا لیکن اب ہزاروں افغان شہری یورپ میں نئی زندگی کا آغاز کرنے کے لئے طالبان کے خطوط جیسے جعلی خط خرید رہے ہیں۔ افغانستان میں عدم استحکام کے باعث بڑی تعداد میں افغان شہری یورپ میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پناہ کے خواہشمند ان افغانیوں کے لئے ’طالبان کی طرف سے جاری کیا گیا دھمکی کا خط‘ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ خط کسی یورپی ملک میں دکھا کر حکام کو قائل کیا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں ان تارکین وطن کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اب طالبان کی طرف سے ایسے خطوط کا اجراءنہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے لیکن اسی طرح کے جعلی خطوط بنا کر بیچنے والوں کا کاروبار خوب چمک اٹھا ہے۔ ایک اچھے جعلی خط کی قیمت ایک ہزار ڈالر (تقریباً 1لاکھ پاکستانی روپے) تک وصول کی جارہی ہے۔ افغانستان میں ایسے ہی جعلی خطوط فروخت کرنے والے ایک شخص مخمل خان نے بتایا کہ مغربی ممالک کے حکام کو دھوکہ دینے والا خط ہی کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب تک ایسے 20 خطوط فروخت کرچکے ہیں۔ مخمل خان نے یہ بھی بتایا کہ مغربی ممالک میں جو دھمکی آمیز خطوط دکھائے جاتے ہیں ان میں سے صرف ایک فیصد اصلی ہوتے ہیں، تقریباً 99 فیصد خطوط جعلی ہیں۔

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …