Home » Pakistani Columns » Misc. » اہل پاکستان کو مبارکباد ۔ عمار مسعود

اہل پاکستان کو مبارکباد ۔ عمار مسعود

پاکستانیو۔ کہ سرکاری خزانے سے ایک دھیلے کی خرد برد نہیں ہوئی اور تمہارا وزیر اعظم نااہل قرار دے دیا گیا۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ ایک اقامے کی بنیاد پر پاناما کیس منتج ہوا ہے۔ اربوں کی کرپشن دس ہزار درہم میں بدل گئی اور اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ ایک پورا خاندان سیاست سے باہر نکال دیا گیا۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ جن کے نام کے نعرے لگاتے تھے، جن کا دم بھرتے تھے، جن کو ووٹ دیتے تھے، جن کے لیے دعائیں کرتے تھے وہ سارا خاندان نااہل ہو گیا۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ ایک اورسازش کامیاب ہو گئی۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ دھرنے سے شروع ہونے والا سلسلہ آج پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ ایک اور ظلم برپا ہو گیا۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ ایک نسل کی امید ٹوٹ گئی۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ ایک جمہوری عہد ختم ہو گیا۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ روشن پاکستان کا ایک سپنا ٹوٹ گیا۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ تمہارے ووٹ پھر بے قدر ہو گئے۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ تمہارے نعرے پھر بے ثمر ہو گئے۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ تم پھر لوٹ لئے گئے۔ تمہارے خواب کرچی کرچی ہوئے۔ تمہاری امیدیں ریزہ یرزہ ہوئیں۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ تم کو پھر تمہاری اوقات یاد دلا دی گئی۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ تمہیں پھر تمہاری حیثیت بتا دی گئی۔

اب دیکھنا پاکستانیو۔ اب ہر طرف ایمان کا غلبہ ہوگا۔ اب ہر شخص صادق اور امین ہو گا۔ اب سب کا حساب ہو گا۔ اب ہر کرپٹ زیر دام آئے گا۔ اب ہماری نسلیں اس فیصلے پر فخر کریں گی۔ اب دنیا ہمیں رشک سے دیکھے گی۔ اب ہم اس سارے عالم میں انصاف کرنے والے مانیں جائیں گے۔ اب ہم حق بات کرنے والے کہلائیں گے۔ اب کوئی کرپٹ نہیں بچے گا۔ صادق اور امین پر جو جو پورا نہیں اترے گا وہ نا اہل ہوتا جائے گا۔ اب اس ملک کے انصاف کی مثالیں زمانے بھر میں دی جائیں گی۔ عدلیہ کے فیصلے کی تیز دھار تلوار سے اب کوئی نہیں بچے گا۔

مبارک ہو پاکستانیو۔ اب کرپشن اس ملک میں جڑ سے ختم ہو گئی ہے۔ اب لوڈ شیڈنگ پل بھر میں ختم ہو گئی ہے۔ اب شاہراہیں راتوں رات بن جائیں گی۔ اب ڈالر کی قیمت گر جائے گی۔ اب سی پیک بھاگے گا، نہیں دوڑے گا۔ اب امریکہ، افغانستان اور انڈیا میں ہمارے تعاون سے صلح ہو جائے گی۔ اب صحت عامہ کے مسائل حل ہوجائیں گے۔ اب ہر بچے کو تعلیم ملے گی۔ اب ہر شخص کو روزگار ملے گی۔ اب اس ملک میں دودھ شہد کی نہریں بہیں گی۔ اس لئے کہ ہم نے کرپشن کی جڑ کو اکھاڑ پھینکا ہے۔ ہم نے نواز شریف کو برطرف کر دیا ہے۔ یہی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ تھا اور اس مسئلے کو ہم نے بیک جنبش قلم ختم کر دیا ہے۔

اب نواز شریف کے بعد عمران خان اس انصاف کی زد میں آئیں گے۔ صادق اور امین تو وہ بھی نہیں رہے۔ کاغذات تو ان کے بھی پورے نہیں۔ پھر جہانگیر ترین کو سزا ہو گی۔ ان کی نسلوں کا حساب ہو گا۔ پھر ساری اسمبلی کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ ایک نئے سرے سے صادق اور امین کی تلاش کی جائے گی۔ کسی کے گوشوارے مکمل نہیں ہوں گے۔ عوامی ووٹوں سے منتخب ان سب مجرموں کو نااہل قرار دے دیا جائے گا۔ ان سب پر انصاف کا ڈنڈا چلا دیا جائے۔ پھر بیوروکریٹس کی سختی آئے گی۔ سرکاری افسران کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ چن چن کر احتساب کیا جائے گا۔ ایک ایک کے خاندان کو رسوا کیا جائے گا۔ ایک ایک کے بیوی بچوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ سب لائن حاضر ہوں گے۔ صادق امین کوئی نہیں نکل پائے گا۔ پھر سرمایہ داروں کی باری آئے گی۔ زمینوں میں خرد برد کرنے والے پکڑے جائیں گے۔ کاروباری شخصیات پر صادق اور امین کی تلوار چلے گی۔ سب کے گوشوارے طلب کیئے جائیں گے۔ سب کے ٹیکس گوشوارے دیکھے جائیں گے۔ سب کی پکڑ ہوگی۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر رہنے والوں کو رسوا کیا جائے گا۔ سب نا اہل ہو جائیں گے۔ قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلیاں ، سینٹ ، کاروباری شخصیات سب زیر دام آ جائیں گے۔ سب کو زیر حراست لیا جائے گا۔ کیونکہ اب ہمیں انصاف کرنا ہے۔ اب ہمیں صادق اور امین کی تلاش ہے۔

اس تاریخی فیصلے سے اب امید ہو گئی ہے کہ اب کرپٹ ڈکٹیٹروں کا بھی احتساب ہوگا۔ عوام کے ووٹوں کو ٹھڈے مارنے والوں پر بھی صادق اور امین کی شق لگے گی۔ آئین کو پاوں تلے روندنے والوں کی بھی رسوائی ہوگی۔ نوے روز کے بعد انتخابات کروانے کا وعدہ کرنے کے بعد قوم کی پیٹھ پر گیارہ سال سواری کرنے والے مجرم کا بھی بعد از مرگ احتساب ہوگا۔ صادق اور امین کی شق کو آئین میں ایک ہتھکنڈے کے طور استعمال کرنے والوں کی تضحیک بھی ہوگی۔ ان کی جائیدادیں قرق کی جائیں گی۔ انکے اثاثے بھی ضبط کیئے جائیں گے۔ ان کو بھی کٹھرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ جمہوریت پر شب خون مارنے والے بزدل لوگوں کا احتساب بھی ہوگا۔ جو اس دھرتی سے وفاداری کا حلف لے کر دوبئی میں رقص کرتے ہیں۔ جو دس سال اس قوم کی تذلیل کرنے کے بعد کمر درد کا بہانہ بناتے ہیں۔ ان کو بھی انٹر پول کے ذریعے گرفتار گیا جائے گا۔ ان کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ بال بچوں کو پیشیوں کے لئے بار بار بلایا جائے گا۔ ان کے بھی بچوں کے اثاثے بریکنگ نیوز کے طور پر چلیں گے۔ ان سپہ سالاروں سے بھی صادق اور امین کا حساب لیا جائے گا جنکے بھائی پراپرٹی ڈیلر بنے رہے اور ان کو سارے زمانے کی خبر رہی مگر برادر خورد کے معاملات نگاہ سے اوجھل رہے۔ ان کے خاندان کا بھی اب عدالتوں میں گھسیٹا جائے گا۔ ان پر بھی صادق اور امین کی تلوار چلے گی۔ ان کو بھی عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔ اب انکی بھی تفتیش ہو گی جنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروایا تھا۔ اب انکی بھی پرسش ہو گی جنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے عدالت میں بیٹھ کر اپنے مالکان کو تعمیل حکم کی خبر دی تھی۔ اب ان سب کو صادق اور امین کے پل صراط پر پرکھا جائے گا۔ اب سب کا احتساب ہوگا۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ اب کوئی نہیں بچے گا۔

مبارک ہو۔ اب ارسلان کے ابو کا بھی احتساب ہوگا۔ اب انصاف کی تلوار ان پر بھی گرے گی۔ اب مہینوں میں اربوں کمانے والے ارسلان کو بھی پیش کیا جائے گا۔ اب اس کے ابو پر بھی صادق اور امین کی تلوار چلے گی۔ اب پی سی او کے تحت حلف لینے والے کرپٹ ججز بھی زیر عتاب آئیں گے۔ اب رشوت خور گرفتار ہوں گے۔ اب بھٹو کو پھانسی دے کر معافی مانگ لینے والوں کا بھی احتساب ہوگا۔ اب بے نظیر کو حکومت سے نکالنے والے بھی پکڑے جائیں گے۔ اب نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں ملک بدر کرنے والے بھی آزمائیں جائیں گے۔

اب میڈیا پر بھی صادق اور امین کا ڈنڈا چلے گا۔ جھوٹی خبریں چلانے والے، عوامی لیڈروں کو بدنام کرنے والے کاذب قرار دیئے جائیں گے۔ ان کے بھی اثاثے طلب کیے جائیں گے۔ ان کے بیوی بچوں کی بھی پیشیاں ہوں گی۔

یہ لمحہ مبارک کا ہے۔ اس لئے کہ اب ہم پر وہ حکومت کریں گے جو اس دھرتی کے اصل مالک ہیں۔ بائیس کروڑ گندے مندے عوام سے ماورا ہیں۔ جو ووٹ دینے والے نہیں، نعرے لگانے والے نہیں، جلسے کرنے والے نہیں، اسمبلیوں میں بیٹھنے والے نہیں۔ بلکہ حکومت کرنے والے ہیں۔ جمہوریت کو تماشہ بنانے والے ہیں۔ ووٹوں کا تمسخر اڑانے والے ہیں۔ یہ ہمارے اصل حاکم ہی اور اس دھرتی پر صرف یہی صادق اور امین ہیں۔ یہ ہمارے مالک ہیں۔ یہی اس دھرتی کے خدا ہیں۔ مبارک ہو پاکستانیو۔ اس دھرتی کے مالکوں کو ان کی ملکیت پھر نصیب ہوئی ہے۔ مبارک ہو پاکستانیو، تمہاری پھر تضحیک ہوئی ہے۔

#paksa 

Check Also

#paksa #paksa.co.za پپو گاندھی نریندر مودھی اور پاکستانی کسان ۔۔ رؤف کلاسرا