Home » Interesting News » برطانیہ میں ایک ایسا ٹی وی ڈرامہ شروع ہو گیا کہ دیکھ کر ہر پاکستانی شرم سے پانی پانی ہو جائے، آج تک اس سے زیادہ ملک کی بدنامی اور کسی چیز سے نہ ہوئی ہوگی، اس میں ایسا کیا ہے؟ دیکھ کر آپ کا بھی دل خون کے آنسو روئے گا

برطانیہ میں ایک ایسا ٹی وی ڈرامہ شروع ہو گیا کہ دیکھ کر ہر پاکستانی شرم سے پانی پانی ہو جائے، آج تک اس سے زیادہ ملک کی بدنامی اور کسی چیز سے نہ ہوئی ہوگی، اس میں ایسا کیا ہے؟ دیکھ کر آپ کا بھی دل خون کے آنسو روئے گا

لندن (نیوز ڈیسک) پاکستانی نژاد باشندوں کے گینگ کے ہاتھوں درجنوں کمسن برطانوی لڑکیوں کی عصمت دری کے انکشافات نے ہی ہماری کچھ کم بدنامی نہیں کی تھی کہ اب رہی سہی کسر ان بھیانک جرائم پر مبنی ڈرامہ سیریز ’تھری گرلز‘ (Three Girls) نے پوری کر دی ہے۔ برطانوی ٹی وی ’بی بی سی ون‘ پر گزشتہ ہفتے اس ڈرامے کا آغاز ہو گیا ہے۔

یہ ڈرامہ سیریز راچڈیل جنسی گینگ کے جرائم کی سچی کہانیوں پر مشتمل ہے، جس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح

برطانوی قانون نافذ کرنے والے ادارے بچوں کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ ایشیائی جنسی گینگ کی حیوانیت کا نشانہ بننے والی لڑکیوں کو کس طرح سگریٹ اور نشے پر لگا کر ان کی عزت پامال کی گئی اور کیوں ان کی بار بار کی پکار سماجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کانوں تک نہ پہنچی، یہ سب تفصیلات اس ڈرامے میں بیان کی گئی ہیں۔
’تھری گرلز‘ میں 2008 ء اور 2012 ءکے درمیان ایشیائی گینگ کے جنسی جرائم کا نشانہ بننے والی تین لڑکیوں کی کہانی بیان کی گئی ہے ، اگرچہ اس گینگ کا نشانہ بننے والی کل لڑکیوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔ اس کہانی میں دکھائی گئی تین لڑکیاں روبی ، ہولی اور ایمبر ہیں (یہ نام فرضی ہیں )۔ روبی اور ایمبر بہنیں ہیں جبکہ ہولی ان کی دوست ہے۔ ان تینوں کی عمریں 13 سے 15 سال کے درمیان تھیں اور یہ تینوں جنسی ظلم کے نتیجے میں حاملہ ہو گئیں۔ درندہ صفت گینگ نے پہلے ایمبر کو اپنے چنگل میں پھنسایا اور پھر اس کی مدد سے باقی لڑکیوں کو بھی اپنے جال میں پھنسایا۔ روبی ، جو کہ ذہنی مسائل سے بھی دو چار تھی ، محض 13 سال کی تھی جب وہ ایک 42 سالہ ایشیائی باشندے کی جنسی ہوس کا نشانہ بن ک

ر حاملہ ہو گئی۔ حمل کی پیچیدگیوںکے باعث اسے اسقاط کروانا پڑا اور بدترین تکالیف سے گزرنا پڑا۔
راچڈیل جنسی گینگ نے 50سے زائد کمسن لڑکیوں کو لرزہ خیز جنسی جرائم کا نشانہ بنایا۔ ان مجرموںمیں سے اکثر پاکستانی نژاد تھے۔ یہ لوگ کمسن لڑکیوں کو سکولوں کے باہر کھانے پینے کی اشیاءاور سگریٹ دے کر اپنی جانب مائل کرتے تھے بعد ازاں انہیں شراب نوشی پر لگا دیتے۔ وہ انہیں اپنی جانب مائل رکھنے کے لئے رقم اور تحائف بھی دیتے تھے۔
ایک کمسن لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ اسے روزانہ تقریباً نصف درجن مرد زیادتی نشانہ بناتے تھے جبکہ ہر ہفتے بے شما ر دفعہ اسے ہوس کا نشانہ بنایا جاتا تھا ۔ ایک اور لڑکی نے بتایا کہ اسے دو افراد نے اس قدر زیادتی کا نشانہ بنایا کہ اس کی طبعیت بے حد بگڑ گئی اور وہ قے کرنے لگی۔ ایک اور لڑکی نے بتایا کہ اسے اتنی کثرت سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا کہ بالآخر اس کے تمام جذبات ختم ہو گئے اور وہ بے حس ہو کر رہ گئی۔ اس نے روز روز کے جنسی جرائم کو اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر لیا تھا ۔
لیور پول کراﺅن کورٹ میں چلائے گئے مقدمے کے دوران مئی 2012 ءمیں 9 افراد کو جنسی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا۔ انہیں 4 سے 19 سال تک قید کی سزائیں ہوئیں۔ درندوں کے اس گروہ کا سرغنہ شبیر احمد نامی شخص تھا ، جس کی عمر سزا سنائے کے وقت 59 سال تھی۔ اسے جنسی زیادتی ، کمسن لڑکیوں کو ہراساں کرنے ، دیگر افراد سے ان کے ساتھ زیادتی کروانے اور انسانی سمگلنگ جیسے جرائم میں 19 سال قید کی سزا سنائی گئی ۔

جرم کی اس بھیانک داستان کو دنیا کے سامنے لانے والی خاتون کا نام سارہ رو بوتھم ہے، جس نے راچڈیل شہر میں متعدد کم سن لڑکیوں کی ایک ہی انداز میں پامالی کے واقعات کے متعلق جان کر پہلی بار حکام کو خبر دار کیا۔ اگرچہ انہیں بھی نظر انداز کیا گیا لیکن بالآخر یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ پولیس ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور دیگر حکومتی اداروں نے معاملے کوسنجیدگی سے لیا۔ بالآخر درجنوں کمسن لڑکیوں کی کئی سال تک عصمت دری کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے وہ انکشافات دنیا کے سامنے آئے جنہیں ’برطانوی تاریخ کا سیاہ ترین باب‘ قرار دیا گیا۔

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …