Home » Interesting News » بچوں نے سکول میں نقل کرنے کو کاروبار کا ذریعہ بنالیا، یوٹیوب پر ایک دوسرے کو نقل کی دعوت۔۔۔ آخر کار پکڑے گئے، مگر کیسے؟ جانئے

بچوں نے سکول میں نقل کرنے کو کاروبار کا ذریعہ بنالیا، یوٹیوب پر ایک دوسرے کو نقل کی دعوت۔۔۔ آخر کار پکڑے گئے، مگر کیسے؟ جانئے

لندن(نیوز ڈیسک)کام چور طالبعلموں کی اس دنیا میں کبھی بھی کمی نہیں رہی البتہ نئے دور کی جدید ٹیکنالوجی نے تو بددیانتی کے متلاشی طالبعلموں کی تعداد نئی انتہاﺅں کو پہنچا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق دنیا کے متعدد ممالک میں انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہوئے سکول کے طالبعلموں کو ہوم ورک میں مدد فراہم کرنے کے نام پر جعلسازی کا دھندہ چلایا جارہا ہے۔ دراصل یہ کاروبار نالائق طلبا کو مزید سستی و کاہلی او ربددیانتی کی جانب مائل کر رہا ہے۔

یہ دھندہ کرنے والی کاروباری ویب سائٹیں طلبا کو سکول سے ملنے والے سوالات حل کر کے دیتی ہیں، انہوں نے کوئی مضمون لکھنا ہو تو انہیں لکھ کر دیا جاتا ہے، غرضیکہ کوئی بھی کام ہو یہ پیسے لے کر کردیتے ہیں۔ ان کے کسٹمرز کی تعداد پہلے ہی لاکھوں میں پہنچ چکی ہے اور اب اس میں مزید اضافہ کرنے کے لئے یوٹیوب پر مقبولیت رکھنے والے سپر سٹارز کی مدد بھی حاصل کی جارہی ہے۔

حال ہی میں یوکرین میں چلائی جانے والی ایک اشتہاری مہم کا پتہ چلا ہے جس میں یوٹیوب سٹار اپنے لاکھوں فالوور طالبعلموں کو اس بات پر مائل کررہے ہیں کہ وہ سکول کا کام خود کرنے کی بجائے آن لائن ہوم ورک کی خدمات فراہم کرنے والی ویب سائٹوں سے رجوع کریں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ایک صرف ایک ویب سائٹ edubirdieکی مارکیٹنگ کے لئے یوٹیوب کے 250 سے زائد چینل کام کررہے ہیں۔اس ویب سائٹ کی تشہیر کے لئے 1400 سے زائد ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جنہیں 70کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس جعلسازی میں ملوث لوگوں کا کاروبار کتنے بڑے پیمانے پر پھل پھول رہا ہے۔ دنیا بھر سے سکول و کالج کے طالبعلم ان سے اپنا کام کروارہے ہیں اور یوں بددیانتی کا یہ دھندہ ناصرف حقدار طالبعلموں کا حق ماررہا ہے بلکہ نظام تعلیم کی جڑیں بھی کھوکھلی کررہا ہے۔

 

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …