Home » Interesting News » بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ ہوئی تو کتنے لوگ لقمہ اجل بنیں گے اور خطے کا کیا حشر نشر ہوگا؟ ایسی تفصیلات سامنے آگئیں کہ جان کر’ ’مودی“ خود بھی گھبرا جائیں گے

بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ ہوئی تو کتنے لوگ لقمہ اجل بنیں گے اور خطے کا کیا حشر نشر ہوگا؟ ایسی تفصیلات سامنے آگئیں کہ جان کر’ ’مودی“ خود بھی گھبرا جائیں گے

jang

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی پارلیمنٹ سبھرامانین کی جانب سے پاک بھارت ایٹمی جنگ کی صورت میں ممکنہ نقصانات سے متعلق اعدادو شمار کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ بھارتی رکن پارلیمنٹ نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ اگر پاک بھارت ایٹمی لڑائی ہوئی اور اس میں صرف سو وار ہیڈز کا استعمال بھی ہوا تو ہر وار ہیڈ کے استعمال سے دو کروڑ دس لاکھ (اکیس ملین)افراد مارے جائیں گے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں ہونے والی ہولناکی اندازوں سے کہیں زیادہ ہوگی ۔ ایسی صورت میں صرف اکیس ملین لوگ(دوسری جنگ عظیم میں مرنے والوں کی نصف تعداد) ہی نہیں مارے جائیں گے بلکہ نقصان کہیں زیادہ ہوگا۔امریکی یونیورسٹی کی 2007 کی تحقیق کا حوالہ دیتے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایٹمی حملے کی صورت میں اوربھارت میں 2015 کے اعدادو شمار کے مطابق نوسال کے عرصے میں دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے جانیوالوں کے مقابلے میں دوہزار دو سو اکیس گنا زیادہ لوگ زندگیوں کے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جبکہ برصغیر میں دو ارب افرادبالواسطہ طور پر متاثر ہونگے۔

2013 میں عالمی تنظیم”انٹرنیشنل فیزیشنز فار دی پری وینشن آف نیوکلیئر وار“ کی رپورٹ میں بھی کچھ ایسے ہی ہولناک خدشات کا اظہار کیا گی تھا۔دو ہزار پندرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس اندازا ایک سو دس سے لیکر ایک سو تیس ایٹمی ہتھیار ہیں جن میں سے چھیاسٹھ فیصد کسی بھی وقت حملے کے لئے بالکل تیار ہیں، پورا بھارت پاکستانی میزائلوں کی رینج میں ہے اور اگر پاکستان نے کارروائی کی تو بھارت میں نئی دہلی، ممبئی ، بنگلور اور چنائی اس کے اہم اہداف ہونگے ۔پونے، احمد آباد، ناگ پور، بھوپال اور لکھنو بھی دیکھتے ہی دیکھتے نیست و نابود ہوجائیں گے، پاکستان کے وار ہیڈ لے جانے والے غور ی میزائل کی رینج تیرہ سو کلومیٹر ہے، شاہین پچیس کلومیٹر تک مار کرسکتا ہے جبکہ غزنوی دوسو ستر سے تین سو پچاس کلومیٹر تک ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا سکتا ہے،نصر اور بابر میزائل بھی قریب کے شہروں کو نشانہ بناسکتے ہیں لہذا بھارت کا کوئی بھی شہر محفوظ نہیں رہے گا۔

 jang
بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس کے مطابق پاکستان کے مقابلے میں بھارت ایک سو دس سے لیکر ایک سو بیس ایٹمی وار ہیڈز رکھتا ہے اور پرتھوی، اگنی سیریز میزائلوں کو اپنا بہترین ہتھیار قرار دیتا ہے۔

jang-2
پاکستان کے چھیاسٹھ فیصد کے مقابلے میں بھارت کے تریپن فیصد میزائل حملے کے لئے ہروقت تیار ہیں، اگر بھارت حملہ کرتا ہے تو اسلام آباد، لاہور، کراچی اور نوشہرہ اس کا اہم نشانہ ہونگے۔ اگر بھارت لاہور پر حملے میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال وہاں تو جو نقصان کرے گا وہ کرے گا ، خود بھارت کا بڑا علاقہ بھی اس کی زد میں آئے گا ۔ پاک بھارت ایٹمی جنگ کی صورت میں افغانستان بھی انتہائی بری طرح متاثر ہوگا۔بھارتی دعوو¿ں کو سچ مانا جائے تو اس کے پاس سات سو کلومیٹر سے دو ہزار کلومیٹر تک ایٹمی وار ہیڈ لے جانے والے میزائل موجود ہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ لاہور، اسلام آباد ، راولپنڈی، ملتان، کراچی، کوئٹہ، اور گوادر بھی ان کی زد میں ہیں۔

 #paksa
#paksa.co.za

Check Also

#paksa #paksa.co.za چینی انجینئر رائیونڈ سے پسند کی لڑکی بیاہ کر لے گیا

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی …