Home » Interesting News » بھارت میں جہالت اور توہم پرستی عروج پر ،وزیر اعلی کرناٹک نے ’’کالا کوا‘‘گاڑی پر بیٹھنے پر گاڑی ہی منحوس قرار دے کر بدل ڈالی

بھارت میں جہالت اور توہم پرستی عروج پر ،وزیر اعلی کرناٹک نے ’’کالا کوا‘‘گاڑی پر بیٹھنے پر گاڑی ہی منحوس قرار دے کر بدل ڈالی

kala kava

کرناٹک(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں توہم پرستی عروج پرہے ،عام لوگوں کے ساتھ ساتھ حکمران بھی اس’’بیماری‘‘ میں اس حد تک مبتلا ہیں کہ توہم پرستی اور جہالت کے باعث اکثر و بیشتر ایسی حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ توہم پرستی کے باعث اٹھائے جانے والے ان کے اقدامات جان کر ہنسی چھوٹ جائے ۔

بھارتی نجی چینل’’این ڈی ٹی وی‘‘ کے مطابق دو روز قبل ہندوستانی ریاست ’’کرناٹک‘‘ کے وزیر اعلیٰ سداھار مے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ سرکاری دورے پر رواں دواں تھے کہ ان کی گاڑی کی فرنٹ سکرین پر ’’ کالا کوا ‘‘ آ کر بیٹھ گیا ،وزیر اعلیٰ نے کالے کوے کی اس حرکت کو’’ نحوست ‘‘ جان کر سرکاری گاڑی ہی تبدیل کر ڈالی ،جب بھارتی میڈیا نے وزیر اعلیٰ سداھار مے کی اس حرکت پر تنقید کی تو اب وزیر اعلیٰ کرناٹک کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی سرکاری گاڑی کسی وسوسے یا اندیشے کی بنیاد پر تبدیل نہیں کی بلکہ میری کار 2لاکھ کلو میٹر سے زیادہ چل چکی اور 3سال سے زیر استعمال تھی جس کی وجہ سے اسے بدلنا پڑا ،ان کا کہنا تھا کہ وہ توہم پرستی یا وسوسوں اور اندیشوں پر یقین نہیں رکھتے ۔

انہوں نے کہا کہ میں چار مرتبہ چامرا جنگر ضلع کا دورہ کر چکا ہوں جس کے بارے عام کہاوت ہے کہ اگر کوئی وزیر اعلیٰ اس ضلع کا دورہ کرے تو اس کا سیاسی کیرئیر ختم ہو جاتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ ایس ایم کرشنا نے توہم پرستی کی وجہ سے اس ضلع کا افتتاح بنگلور میں بیٹھ کر ریموٹ کے ذریعے کیا تھا ۔وزیر اعلیٰ سداھار مے نے اپنے ہم عصر سیاست دانوں کی توہم پرستی اور جہالت کو پول کھولتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک بار دیوگوڑا جو معروف سیاست دان ہیں نے اس ضلع میں آنا تھا ،آدھا راستہ طے کرنے کے بعد انہیں یاد آیا کہ منحوس جگہ سے گزرنے کے بعد ہی وہ اپنے سیاسی جلسے میں شرکت کر سکتے ہیں ، جس سے ان کا سیاسی کیرئیر بھی ختم ہو سکتا ہے تو انہوں نے وہیں سے اپنا قافلہ موڑا اور ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر جلسہ گاہ میں پہنچے تھے ۔واضح رہے کہ توہم پرستی ،جہالت اورمنحوسی کی وجہ سے کرناٹک میں ایک سے بڑھ کر ایک کہانیاں پھیلی ہوئی ہیں ،سابق وزیر اعلیٰ کرناٹک ایچ ڈی کمار سوامی جب ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہ جسے ’’منحوس ‘‘ قرار دیا گیا تھا میں قیام سے انکار کر دیا تھا ،لیکن جب بہت اسرار ہوا تو انہوں نے اپنے ’’نجومی بابا ‘‘ کو بلا کر ان سے رائے لینے کے بعد پہلے سرکاری رہائش گاہ کی دیواریں اونچی کروائیں اور پھر ’’گاؤ ماتا ‘‘ کو اپنے ہاتھوں سے چارہ کھلانے کے بعد اس میں رہائش رکھی تھی ۔

ایچ ڈی کمار سوامی کے بعد یدی یورپا نے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو انہوں نے ’’توہم پرستی ‘‘ کے سبب یکسر ہی سرکاری رہائش گاہ میں منتقل ہونے سے انکار کر دیا اور پورے دور میں اپنے پرانے گھر میں ہی قیام پذیر رہے ،جس کی وجہ سے سیکیورٹی حکام کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …