Home » Interesting News » جب انگریز اپنے اقتدار میں ہندوستانیوں سے قرضہ کی اپیل کرتے ہوئے مشکل میں گرفتار ہوگئے ۔انہیں اس مشکل سے لاہور کے ایک ادیب کے جملے نے نکال دیا ،انہوں نے کیا لکھا ؟آپ بھی جانئے

جب انگریز اپنے اقتدار میں ہندوستانیوں سے قرضہ کی اپیل کرتے ہوئے مشکل میں گرفتار ہوگئے ۔انہیں اس مشکل سے لاہور کے ایک ادیب کے جملے نے نکال دیا ،انہوں نے کیا لکھا ؟آپ بھی جانئے

لاہور(ایس چودھری)جنگوں کی وجہ سے ملکوں کی اقتصادی اور مالی حالت کا یہ عالم بھی ہوجاتا ہے کہ انہیں اپنی عوام سے قرض یامالی مدد مانگنا پڑ جاتی ہے۔جنگ عظیم کے دوران جب کہ ہندوستان پر برٹش راج تھا،جنگ عظم اوّل میں ان پر بھی یہ نوبت آئی لیکن اسکے لئے انہوں نے بڑا ہی دلچسپ کام کیا تھا ۔عوام سے قرض مانگنے سے پہلے حکومت ہند نے اخبار میں ایک ا شتہار شائع کرنا تھا لیکن اسے جب کوئی مناسب الفاظ نہ ملے تو انہوں نے اعلان کیا کہ جو کوئی قرضے کے اشتہار کے لئے مختصر اور موثر عبارت مرتب کرے گا اسے پانچ سو روپے انعام دیا جائے گا۔اس بات کا ذکر فقیر سید وحید الدین نے اپنی کتاب ’’انجمن‘‘ میں کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ مقابلہ لاہور کے ممتاز ادیب نے جیت لیا تھا ۔وہ لکھتے ہیں کہ ’’ انگریزوں نے اپنے دور فرمانروائی میں غالباً پہلی بار پبلک سے قرضہ حاصل کرنے کے لئے اپیل کی تھی۔ اس اعلان کا اخباروں میں آنا تھا کہ بہت سے اہل قلم عبارت آرائی اور قلم کاری میں مصروف ہوگئے۔ سینکڑوں عبارتیں لکھ کر بھیجی گئیں مگر جس عبارت نے انعام حاصل کیا وہ حکیم احمد شجاع پاشا کی مرہون قلم تھی۔ ان کی لکھی ہوئی عبارت یہ تھی۔

’’قرض اور فرض میں صرف ایک نقطے کا فرق ہے۔ آپ کے لئے وہ بھی نہیں!‘‘
حکیم احمد شجاع پاشا نامور ادیب اور ڈرامہ رائٹر تھے اور چند جملوں میں مدعا بیان کرنے کا ملکہ رکھتے تھے،انہو ں نے بھاٹی گیٹ لاہور کے پاس ہونے والی ادبی محفلوں کو دیکھتے ہوئے اس جگہ کو ’’لاہور کا چیلسی ‘‘ کا خطاب بھی دیا تھا ،انکے ایک صاحبزادے پاکستان کی فلم انڈسٹری کا نمایاں نام تھے اور انور کمال پاشا کے نام سے معروف ہوئے۔

 

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

#paksa #paksa.co.za چینی انجینئر رائیونڈ سے پسند کی لڑکی بیاہ کر لے گیا

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی …