Home » Interesting News » دنیا کا وہ ملک جہاں ہر سال بچوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے، اس کی وجہ مردانہ کمزوری یا کچھ اور؟ جانئے

دنیا کا وہ ملک جہاں ہر سال بچوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے، اس کی وجہ مردانہ کمزوری یا کچھ اور؟ جانئے

ٹوکیو (نیوز ڈیسک) جاپانی ہر شعبے میں غیر معمولی ترقی کر رہے ہیں سوائے ایک شعبے کے۔ یہ واحد شعبہ بچے پیدا کرنے کا ہے جس میں ترقی کی بجائے گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل تنزلی جاری ہے۔ بچوں کی شرح پیدائش مسلسل 37 سال سے گررہی ہے اور اب حال یہ ہے کہ ہر گزشتہ سال کی نسبت تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار کم بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ رواں سال کل آبادی میں بچوں کی تعداد صرف ڈیڑھ کروڑ رہ گئی ہے۔ گزشتہ حکومتوں کی طرح وزیراعظم شنزو آبے کی حکومت نے بھی بچوں کی پیدائش کی شرح بڑھانے کی بہت کوشش کی ہے لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔

جاپانی قانون کے مطابق 14 سال یا اس سے کم عمر افراد کو بچہ شمار کیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے بچوں کی شرح پیدائش کم ہوتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں نوجوان اور خصوصاً بزرگ افراد کا تناسب بہت بڑھ گیا ہے۔ جاپان ٹائمز کے مطابق گزشتہ روز انٹرنل افیئرز اینڈ کمیونیکیشن منسٹری کی جانب سے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کئے گئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ جاپانی آبادی میں بچوں کی شرح صرف 12.3 فیصد ہے جو کہ گزشتہ 44 سال کے دوران کم ترین ہے۔

دنیا میں 32 ایسے ممالک ہیں جن کی آبادی چار کروڑ یا اس سے زائد ہے اور ان میں جاپان وہ ملک ہے جس میں بچوں کی شرح سب سے کم ہے۔ جرمنی اور جنوبی کوریا کا شمار بھی کم شرح پیدائش والے ممالک میں ہوتا ہے لیکن ان کے ہاں بھی بچوں کا تناسب بالترتیب 13.2 اور 13.1 فیصد ہے۔ تین سال قبل تک جاپان میں شرح تولید 1.45 تک گرچکی تھی البتہ موجودہ حکومت بھرپور کوشش کررہی ہے کہ 2025ءتک شرح پیدائش کو بڑھا کر 1.8 فیصد تک لایا جائے۔

 

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …