Home » Interesting News » ’زمین کی تہہ میں تبدیلی آرہی ہے جس کی وجہ سے انتہائی خوفناک تباہی آئے گی‘ سائنسدانوں نے سب سے خطرناک اعلان کردیا

’زمین کی تہہ میں تبدیلی آرہی ہے جس کی وجہ سے انتہائی خوفناک تباہی آئے گی‘ سائنسدانوں نے سب سے خطرناک اعلان کردیا

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ زمین کا مقناطیسی مدار ہی ہے جو اس پر موجود زندگی کی حفاظت کر رہا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو ہر چیز تہہ و بالا ہو جائے۔ اب سائنسدانوں نے اس مقناطیسی مدار کے متعلق ایسی ہولناک خبرسنا دی ہے کہ جان کر آپ کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ زمین کی تہہ میں ایک خوفناک تبدیلی آ رہی ہے جس سے اس کے مقناطیسی پولز کے الٹ جانے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ اگر یہ مقناطیسی پولز الٹ گئے تو زمین کے گرد جو مقناطیسی مدار ہے اس کی اوپری سطح نیچے اور نچلی اوپر کی طرف ہو جائے گی جس کے بعد سورج کی تباہ کن تابکار شعاعیں بلاروک ٹوک زمین تک پہنچنے لگیں گی اور تباہی مچا دیں گی۔
رپورٹ کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سورج کی تابکاری لوگوں کے ڈی این اے کو ہی تباہ کر دے گی، کینسر کے مریضوں کی تعداد ہزاروں گنا بڑھ جائے گی، زمین کے کمیونی کیشن اور برقی سسٹم ناکارہ ہو جائیں گے اور یوں بالآخر یہ زمین غیرآباد ہو جائے گی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایسا کائنات میں ایک بار پہلے بھی ہو چکا ہے۔ مریخ کی ہیئت زمین سے کافی مشابہہ ہے لیکن وہ غیرآباد سیارہ ہے۔ کروڑوں سال پہلے اس کا مقناطیسی مدار بھی اسی طرح الٹ گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا ماحول تباہ ہو گیا اور وہ آبادی کے قابل نہ رہا۔سائنسدانوں نے جدید ترین آلات سے معلوم کیا ہے کہ زمین کی تہہ میں موجود آئرن گردش کرنے لگا ہے جس کی وجہ سے اس کے مقناطیسی پولز کے الٹنے کا اندیشہ پیدا ہوا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئرن کی تہہ کا چکر مکمل ہونے اور مقناطیسی پولز کے الٹنے میں کافی عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس دوران زمین کا مقناطیسی مدار بتدریج کمزور ہوتا جائے گا اور بالآخر تباہ کن انجام سے دوچار ہو جائے گا۔
یورپین سپیس ایجنسی نے سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے انکشاف کیا ہے کہ زمین کے مقناطیسی مدار کے کمزور ہونے کا عمل اس وقت پہلے سے 10گنا زیادہ تیز ہو گیا ہے اور اس کی شرح 5فیصد فی دس سال ہو گئی ہے۔ ان انکشافات پر یونیورسٹی آف کولوریڈو کے خلائی طبیعات کے ماہر ڈینیئل بیکر اور ان جیسے دیگر سائنسدانوں نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر یہ عمل اس رفتار سے جاری رہا تو بہت جلد زمین کے بعض حصے غیرآباد ہو جائیں گے اور پھر ان میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔واضح رہے کہ زمین کے شمالی اور جنوبی مقناطیسی پولز 2سے 3لاکھ سال کے عرصے میں جگہ تبدیل کرتے ہیں اور اگلے اس عرصے میں چکر مکمل کرتے ہوئے واپس اس جگہ پر آ جاتے ہیں۔سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ بار پولز میں یہ تبدیلی نہیں آئی تھی کیونکہ قدیم آتش فشاں پہاڑوں کے مقناطیسی فنگرپرنٹس سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ بار یہ تبدیلی آج سے 7لاکھ 80ہزار سال قبل آئی تھی۔ چنانچہ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ گزشتہ بار نہ آنے والی تبدیلی اب جلد رونما ہونے جا رہی ہے۔

 

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …