Home » Interesting News » سول لائنز تھانے،سول لائنز کالجز،آخر یہ سول لائنز ہے کیا ؟ ایسی دلچسپ بات جس کے متعلق آپ یقیناً جاننا چاہیں گے

سول لائنز تھانے،سول لائنز کالجز،آخر یہ سول لائنز ہے کیا ؟ ایسی دلچسپ بات جس کے متعلق آپ یقیناً جاننا چاہیں گے

لاہور(ایس چودھری) تھانہ سول لائنز،سول لائنز کالج ایسے ناموں سے ہر ضلعی شہروں کے لوگ واقف ہوں گے اور سوچتے ہوں گے کہ اداروں کے نام خاص طورپر تھانوں کے لئے یہ اصطلاح کیوں استعمال کی جاتی ہے۔ دراصل انگریز دور میں برصغیر کے شہروں میں سول لائنز نامی بستیاں، انگریزی گردو نواح کے ماحول کے مطابق19ویں صدی کے وسط میں آباد کی گئی تھیں ۔جہاں بعد میں کالج اور تھانے تعمیر کردئیے گئے۔ آج بھی پاکستان سمیت بھارت میں بھی سول لائنز موجود ہیں مگر اب وہاں عمارتوں کا جنگل اگ آیا ہے۔یہ وکٹورین طرز کے تفریحی مضافات ہوا کرتے جنہیں انگریزوں نے اپنے سول سینئر افسروں کے لئے بنایا تھا مورخ کنگ کہتا ہے’’ان کی صفات میں کم گنجانیت، افقی، ایک منزلہ عمارت، فراخ سڑکیں جن پر دو رویہ درخت لگے ہوئے ہیں، وسیع صحن تک جاتی تھیں جس کے وسط میں ایک بنگلہ ہوتا تھا۔ ’’سول لائنز ماڈل‘‘ ایک اہم عنصر ہے کیونکہ اس کی مخصوصیت ایسی پلاننگ سے متعلق ہے جس میں زمین کے استعمال کی علیحدگی، عمارات کا معیار اور سماجی درجے کے لحاظ سے رہائشی بلاکوں کا ایک جگہ مجتمع ہونا ہے۔ اس میں گھر، کام ، کاج کی جگہوں سے الگ ہوتے ہیں۔ مورخ برنیر کا کہنا ہے ’’سول لائنز سٹریٹ کے نمونے میں عمارتوں کا نظم، زمین کے استعمال کی علیحدگی ، تکلف اور کشادگی اہم چیز ہیں۔

نوآبادیاتی انگریزی معاشرہ، افسران، ان کے اہل خانہ پر مشتمل ہوتا تھا جو فرائض کی بجا آوری کے سلسلے میں سفر میں رہتے تھے ۔ طبعی طور پر سول لائنز ایک الگ تھلگ سماجی ڈھانچے پر مبنی تھا جو کہ برصغیر کی شہری روایات سے مختلف تھا اور جس میں دوستوں اور رشتے داروں نے’’بنگلے‘‘ کو ایک الگ مکان کے طورپر متعارف کرایا۔ ورنہ اس سے قبل لاہور میں ایسے مکان کے گرد باغ ہوتا تھا اور یہ ’’گرمائی مکان‘‘ کے طور پر کسی ایسے شہزادے یا معزز شخص کی ملکیت ہوتا تھا جس کی باقاعدہ رہائش فصیلی شہر کے اندر ہوتی تھی۔ آزادی کے بعد سول لائنز کے مکانوں پر مقامی لوگوں نے قبضے کر لیے اور ان کی شان او رکشادگی ختم ہوگئی۔

لاہور میں سول لائنز قریباً میکلوڈ روڈ سے شروع ہو کر مغرب میں اور نہر کے مشرق کی جانب اور ریلوے سٹیشن سے شمال میں جیل روڈ سے جنوب کی طرف پھیلا ہوا تھا۔ یہاں پر گورنمنٹ افسران کی رہائشیں GOR، گورنر ہاؤس، جمخانہ کلب، ریس کورس، کرکٹ گراؤنڈا ور حتیٰ کہ 1960ء تک ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ ‘‘ کے دفاتر بھی موجود تھے جہاں کہ کپلنگ نے صحافیانہ زندگی گزاری۔ ایسی بنیاد کے ساتھ سول لائنز کا علاقہ حکومتی اہلکاروں کی رہائشی جگہ اور1960ء کے وسط تک حکومتی اداروں کا مرکز رہا۔
متروکہ وقف املاک جائیدادوں کی آباد کاری کے ساتھ سول لائنز میں موجود وسیع و عریض زمینیں، پھیلاؤ کے لیے میسر آئیں چنانچہ نئے نشان کے طور پر انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل، واپڈا ہاؤس، امریکی اطلاعاتی مرکز اور درختوں سے بھری ہوئی سڑکوں کے ساتھ کئی کئی منزلہ دفاتر کی عمارتیں، کاروں کے شو روم، ائیر کینڈیشنڈ شاپنگ پلازے کھڑے ہونا شروع ہوگئے۔ کوئنز روڈ، ایجرٹن روڈ، ڈیوس روڈ، لارنس روڈ اور منٹگمری روڈ کی کمرشلائزیشن نے سول لائنز کا سارا نقشہ بدل دیا۔ پبلک کارپوریشنوں نے بھی ان علاقوں میں ایسی عمارتیں تعمیر کر لی ہیں جن کے آگے اب ہائی کورٹ اور کیتھڈرل بونے نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ اسلامی سربراہان ریاست کے پہلے اجلاس کی یادگار بنانے کے لیے اسمبلی ہال کے سامنے جگہ تلاش کی گئیتو اسکو سول لائنز کے نئے ’’مرتبے‘‘ کی علامت قراردیا گیا تھا ۔

 

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

#paksa #paksa.co.za چینی انجینئر رائیونڈ سے پسند کی لڑکی بیاہ کر لے گیا

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی …