Home » Interesting News » فلاحی کام کرنے والی خواتین نے پنا گزینوں کی ’موجیں ‘کروادیں،ایک خاتون کے کئی لوگوں سے تعلقات،ایسا سکینڈل منظر عام پر کہ جان کر آپ کانوں کو ہاتھ لگانے لگیں گے

فلاحی کام کرنے والی خواتین نے پنا گزینوں کی ’موجیں ‘کروادیں،ایک خاتون کے کئی لوگوں سے تعلقات،ایسا سکینڈل منظر عام پر کہ جان کر آپ کانوں کو ہاتھ لگانے لگیں گے

falahi

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ سے یورپ کا رُخ کرنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کی وجہ سے یورپی حکومتیں پہلے ہی بہت پریشان تھیں کہ اب ایک ایسا انکشاف ہوگیا ہے کہ پورا یورپ ہل کر رہ گیا ہے۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے علاقے کلائس میں قائم عرب مہاجرین کے کیمپ میں کام کرنے والے ایک امدادی کارکن نے تہلکہ انگیز انکشاف کیا ہے کہ برطانوی خواتین کی بہت بڑی تعداد امدادی کارکنوں کے بھیس میں اس کیمپ کا رُخ کررہی ہے لیکن ان کا اصل مقصد پناہ گزین مردوں کے ساتھ جسمانی تعلق استوار کرنا ہے۔ فیس بک پر سامنے آنے والے اس انکشاف میں یہ دعوٰی بھی کیا گیا ہے کہ کلائس پناہ گزین کیمپ میں جاری شرمناک کھیل کی پوری تفصیلات دنیا کے سامنے آئیں گی تو ہر کوئی چونک اٹھے گا۔

تفصیل کے مطابق یورپی خواتین اور خصوصاً برطانوی خواتین کلائس کے پناہ گزین کیمپ میں موجود افراد کی مدد کے بہانے کیمپ میں پہنچتی ہیں لیکن ان کا اصل مقصد اپنی ہوس کی تسکین کرنا ہوتا ہے۔ ہنگامہ خیز انکشاف کرنے والے شخص کا کہنا ہے کہ وہ ایسی خواتین کو بھی جانتا ہے کہ جو ایک دن میں متعدد پناہ گزینوں کے ساتھ تعلق استوار کرتی ہیں اور اگلے دن پھر ان کا یہی کام ہوتا ہے۔ انکشافات میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ جسمانی ہوس پوری کرنے کے لئے پناہ گزینوں کے کیمپ کا رُخ کرنے والی خواتین کم عمر لڑکوں کے ساتھ تعلق استوار کرنے سے بھی باز نہیں آتیں۔
یہ حیرت انگیز انکشافات سامنے آنے کے بعد پورے یورپ میں ہنگامہ برپاہوگیا ہے۔ ایک جانب یورپی حکام امدادی کام کی آڑمیں بے حیائی کرنے والی خواتین کی تلاش میں ہیں تو دوسری جانب انٹرنیٹ صارفین بھی غصے سے لال پیلے ہورہے ہیں۔ یورپی انٹرنیٹ صارفین مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس معاملے کی جلد از جلد تحقیقات کی جائیں اور اس جرم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

falahi

کلائس پناہ گزین کیمپ کے بارے میں فرانسیسی حکومت کا مﺅقف ہے کہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ سے آنے والے ہزاروں پناہ گزین فرانس میں قیام کی قانونی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے جنگلی علاقے میں عارضی خیمہ بستیاں بنا کر رہ رہے ہیں۔ یورپ میں اس پناہ گزین کیمپ کو ”دی جنگل“ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔

 #paksa
#paksa.co.za

Check Also

#paksa #paksa.co.za چینی انجینئر رائیونڈ سے پسند کی لڑکی بیاہ کر لے گیا

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی …