Home » Interesting News » ”مجھے رمضان کے دوران جمعہ کے روز مسجد الحرام میں خطبہ کی اجازت دی جائے کیونکہ۔۔۔“ ہندو شخص نے تاریخ کی عجیب ترین درخواست دیدی، خطبے میں کیا بات کرنا چاہتا ہے؟ جان کر آپ بھی سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے

”مجھے رمضان کے دوران جمعہ کے روز مسجد الحرام میں خطبہ کی اجازت دی جائے کیونکہ۔۔۔“ ہندو شخص نے تاریخ کی عجیب ترین درخواست دیدی، خطبے میں کیا بات کرنا چاہتا ہے؟ جان کر آپ بھی سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے

khutba

حیدر آباد  : بھارتی ریاست حیدر آباد کے حکام کو تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہندو شخص کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے جس میں رمضان المبارک کے مہینے کے دوران مکہ مسجد (مسجد الحرام) میں ہر جمعے منعقد ہونے والی ”یوم القرآن“ کی تقریب سے خطاب کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ اور یہ نبی کریم ﷺ کی شان ہے کہ ایک ہندو شخص ان کی تعریف میں تقریر کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔

مذکورہ ہندو شخص کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خطبہ کے دوران کسی قسم کی قابل اعتراض گفتگو نہیں کرے گا اور صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کی تعریف میں باتیں کرنا چاہتا ہے۔ درخواست موصول ہونے پر ہکا بکا رہ جانے والی انتظامیہ اس کا جائزہ لے رہی ہے تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کی بناءپر اسے اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ رمضان المبارک کے دوران ہر جمعہ کے دن مکہ مسجد میں ’یوم القرآن‘ کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں مختلف مذہی رہنماﺅں عبادت کیلئے آئے لوگوں کو خطبہ دیتے ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین اور مجلس بچاﺅ تحریک کے مذہبی رہنماءبھی کئی سالوں سے یوم القرآن کے موقع پر خطبات دیتے آئے ہیں۔
بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق اقلیتی فلاحی سوسائٹی ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ درخواست دینے والے شخص کا نام ’اے ایس راﺅ‘ ہے۔ ان کے مطابق راﺅ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے خطاب کے دوران قابل اعتراض گفتگو نہیں کرے گا بلکہ صرف اور صرف نبی کریمﷺ کی شان میں تقریر کرے گا۔
اقلیتی ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ”ہمیں چند روز قبل یہ درخواست موصول ہوئی اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی نے ایسی درخواست کی ہے۔ راﺅ نے کہا ہے کہ وہ کچھ غلط نہیں کہے گا، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور ہمارے اعلیٰ افسران ہی اس معاملے پر کوئی فیصلہ کریں گے۔“

ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تلنگانا راشٹرا سمیتھی کا کارکن ہے۔ ساﺅتھ زون کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ’وی ستیا نارائن‘ کا خیال ہے کہ رمضان المبارک پاک مہینہ ہے اور خطبہ کی اجازت صرف اور صرف مسلمانوں کو دی جاتی ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ درخواست گزار کو کہا جائے گا کہ وہ اجازت لینے کیلئے پہلے پولیس سے این او سی حاصل کرے اور پھر اس معاملے کو دیکھا جائے گا جبکہ اقلیتی ڈیپارٹمنٹ ایسا کوئی بھی چانس لینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …