Home » Interesting News » ’میرے جسم کے اندر یہ کیڑا رہ رہا ہے اور اسے میں نے خود اپنے جسم میں داخل کیا کیونکہ۔۔۔‘ خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

’میرے جسم کے اندر یہ کیڑا رہ رہا ہے اور اسے میں نے خود اپنے جسم میں داخل کیا کیونکہ۔۔۔‘ خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

kera

لندن (نیوز ڈیسک) جسم میں کوئی طفیلی کیڑا داخل ہو جائے تو متاثرہ انسان بے حد خوفزدہ ہوجاتا ہے اور اپنے جسم کو کیڑوں سے پاک کرنے کے لئے ہر ممکن تگ و دو شروع کر دیتا ہے۔ ان کیڑوں کو طرح طرح کی بیماریوں کا سبب قرار دیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ یہ اس کے جسم میں موجود ہوں۔ دوسری جانب کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کیڑے خود اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں، اور انہیں کئی طرح کی بیماریوں کا علاج قرار دیتے ہیں ۔ لائن جولی بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں، جو گزشتہ ایک سال سے اپنی بیماریوں کا علاج طفیلی کیڑوں کے ذریعے کررہی ہیں۔

لائن جولی کا کہنا ہے کہ وہ کئی سالوں سے آٹو امیون ڈس آڈر نامی بیماری کی شکار تھیں۔ جب یہ بیماری شدید ہوگئی تو انہیں جسم میں درد، اسہال، اندرونی و بیرونی خشکی اور اس طرح کے دیگر کئی مسائل لاحق ہوگئے۔ اگرچہ انہوں نے کئی قسم کے علاج کروائے لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ انٹرنیٹ پر انہیں پہلی بار طفیلی کیڑوں سے بیماری کے علاج کے متعلق معلومات ملیں لیکن ان کا دل اسے ماننے پر تیار نہیں تھا۔

 ایک دن ان کی ایک دوست نے مشورہ دیا کہ وہ سائنس جرنلسٹ موئسس ویلاسکیز منوف کی کتاب ”این ایپیڈیمک آف ایپسنس “کا مطالعہ کریں۔ لائن جولی کا کہنا ہے کہ اس کتاب میںا نہیں ایک بار پھر طفیلی کیڑوں کے ذریعے بیماریوں کے علاج کے متعلق تفصیلی معلومات ملیں۔ انہوں نے کچھ ہچکچاہٹ کے بعد اسے آزمانے کا فیصلہ کیا۔
ایک قابل اعتماد ذریعے سے انہوں نے ایک یورپی ملک سے اپنے لئے طفیلی کیڑے منگوائے۔ یہ ایک محلول تھا جو بظاہر شفاف نظر آتا تھا لیکن اس کے اندر انتہائی چھوٹے طفیلی کیڑے تھے۔ انہوں نے یہ محلول ایک پٹی پر ڈال کر پٹی اپنے جسم پر چسپاں کرنی تھی۔ لائن جولی کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے پہلی بار محلول سے تر پٹی اپنے جسم پر لگائی تو چند گھنٹوں میں ہی انہیں جلد پر جلن اور چبھن محسوس ہونے لگی۔ دراصل یہ چبھن طفیلی کیڑوں کے جسم میں گھسنے کی وجہ سے ہورہی تھی۔ ان کیڑوں کی جسامت نصف ملی میٹر ہوتی ہے۔ یہ جسم میں داخل ہوتے ہیں اور ہر حصے میں پھیل جاتے ہیں۔ بالآخر یہ آنتوں میں اپنا گھر بناتے ہیں اور افزائش نسل بھی شروع کردیتے ہیں۔ جسم میں داخل ہونے کے بعد چند ہفتوں کے دوران ان کی جسامت بڑھ کر ایک سنٹی میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔
لائن جولی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اکثر لوگ اس خیال کو ہی قابل نفرت محسوس کریں گے لیکن ان کا تجربہ بہت شاندار رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ طفیلی کیڑوں کو اپنے جسم میں داخل کرنے کے بعد جلد ہی انہیں فرق محسوس ہونا شروع ہوگیا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کی حالت بہت بہتر ہوچکی ہے اور وہ بیماری جو کسی بھی طرح کی ادویات سے ختم نہیں ہورہی تھی اب اس کے آثار تقریباً ختم ہوگئے ہیں۔
ویب سائٹ stuff.co.nz کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لائن جولی اس طریقہ علاج سے بہت خوش ہیں، تاہم جدید میڈیکل سائنس اسے اختیار کرنے کا مشورہ نہیں دیتی۔ اس طریقہ علاج کی حمایت میں تاحال کوئی سائنسی شواہد بھی موجود نہیں ہیں تاہم نیوزی لینڈ کے کچھ سائنسدان اس موضوع پر تحقیق کررہے ہیں تاکہ اس کے فوائد و نقصانات کا پتہ چلایا جاسکے۔
#paksa
#paksa.co.za

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …