Home » Interesting News » ’میں اسی صورت شادی کروں گی اگر مجھے اجازت دی جائے کہ میں رات دیر تک۔۔۔‘ سعودی لڑکی نے نکاح کے موقع پر ایسی شرط رکھ دی جو اس سے پہلے کسی لڑکی نے نہ رکھی ہوگی

’میں اسی صورت شادی کروں گی اگر مجھے اجازت دی جائے کہ میں رات دیر تک۔۔۔‘ سعودی لڑکی نے نکاح کے موقع پر ایسی شرط رکھ دی جو اس سے پہلے کسی لڑکی نے نہ رکھی ہوگی

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دور میں بہت سی ایسی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں جن کا مملکت کی تاریخ میں پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔ تبدیل ہوتے سماج نے خواتین کو بھی نئی آواز دی ہے اور اب وہ شادی کے موقع پر کچھ ایسے مطالبات بھی کرنے لگی ہیں جو پہلے کبھی نہیں سنے گئے۔ گلف نیوز کی ایک رپورٹ میں ایک ایسی ہی دلہن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس دلہن نے شادی کے معاہدے میں یہ شرط لکھوائی ہے کہ وہ شادی کے بعد بھی ملازمت جاری رکھے گی اور اگر بسلسلہ ملازمت اسے رات دیر تک بھی گھر سے باہر رہنا پڑے تو شوہر کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
اسی طرح ایک اور دلہن نے یہ شرط شادی کے معاہدے میں لکھنے پر اصرار کیا کہ اسے سٹیڈیم میں جاکر فٹ بال میچ دیکھنے کی اجازت ہوگی کیونکہ حکومت کی جانب سے یہ پابندی ختم ہوچکی ہے۔ اسی طرح ایک اور خاتون نے اپنی شادی کے معاہدے میں یہ شرط لکھوائی کہ جب جون میں ڈرائیونگ کی پابندی ختم ہوجائے گی تو اس کا خاوند اسے ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دے گا۔
ایک اور دلہن نے یہ شرط معاہدے میں شامل کروائی کہ اگر وہ شادی کے بعد اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیرون ملک سیر کے لئے جانا چاہے تو اس پر پابندی نہیںہوگی۔ ایک دلہن نے تو یہ دلچسپ و عجیب شرط بھی شادی کے معاہدے کا حصہ بنا ڈالی کہ اگر وہ سوشل میڈیا پر خرید و فروخت کی مختلف اشیاءکی مارکیٹنگ کرنا چاہے تو دولہا یا اس کے گھر والوں کو اس بات پر اعتراض نہ ہوگا۔ ایک نوعمر دلہن نے یہ شرط رکھی کہ شادی کے بعد وہ بیرون ملک تعلیم کے لئے جائے گی اور اس کا خاوند بھی مالی و جذباتی سہارا فراہم کرنے کے لئے اس کے ساتھ جائے گا۔

 

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …