Home » Interesting News » ’میں سعودی عرب اپنی زندگی سنوارنے گئی لیکن مجھے 11 گھروں میں کام کرنا پڑتا تھا اور جب فارغ ہوتی تو ایک کمرے میں بند کردیا جاتا تھا جہاں۔۔۔‘ سعودی عرب میں گھریلو ملازمہ کی نوکری کیلئے گئی خاتون کی ایسی کہانی کہ انسان کانپ اُٹھے

’میں سعودی عرب اپنی زندگی سنوارنے گئی لیکن مجھے 11 گھروں میں کام کرنا پڑتا تھا اور جب فارغ ہوتی تو ایک کمرے میں بند کردیا جاتا تھا جہاں۔۔۔‘ سعودی عرب میں گھریلو ملازمہ کی نوکری کیلئے گئی خاتون کی ایسی کہانی کہ انسان کانپ اُٹھے

saudia

کیرالہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی محنت کشوں کو کفیلوں کی بدسلوکی کا اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن خصوصاً گھریلو خادماﺅں کے طو رپر کام کرنے والی خواتین کے حالات انتہائی قابل ترس ہوتے ہیں۔ زندگی سنوارنے کے لئے سعودی عرب جانے والی کچھ بھارتی خواتین بھی ایسی ہی دردناک مثال ہیں، جن کی زندگی تو کیا سنورتی الٹا جان اور عزت ہی خطرے میں پڑ گئی۔

مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی خاتون سشیلما اچاری نے بتایا ”میرے کفیل نے مختلف گھروں میں کام کے لئے مجھے بیچنا شروع کردیا۔ اس نے مجھے بار بار بیچا اور میں نے 11 مختلف گھروں میں کام کیا۔ وہ مجھے اکثر سزا دینے کیلئے ایک تاریک کمرے میں بند کردیتا تھا اور مجھے پانچ گھنٹے سے زیادہ سونے کی اجازت نہیں تھی۔ معمولی سے معمولی بات پر بھی وہ میرے منہ پر تھپڑ ماردیتا تھا۔ ایک سال تک بغیر تنخواہ کے کام کرنے کے بعد میں سعودی پولیس اور بھارتی حکام کی مدد سے واپس آنے میں کامیاب ہوئی۔ مجھے نو ماہ کی تنخواہ ابھی تک نہیں ملی لیکن میں شکر کرتی ہوں کہ زندہ سلامت واپس آگئی ہوں۔“

ایک اور بھارتی خاتون اشما ورجیس جنوب مغربی صوبے اصیر کے دارالخلافہ ابحا میں ایک سعودی گھرانے میں خادمہ کے فرائض سرانجام دیتی تھیں۔ اشما نے اپنی حالت زار بیان کرتے ہوئے بتایا ”ایک دن میں کھانا کھارہی تھی اور بدقسمتی سے مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ وہ مجھے آواز دے رہے تھے۔ بس اس بات پر وہ آپے سے باہر ہوگئے اور میرا کفیل دوڑتا ہوا آیا اور مجھے تھپڑ اور ٹھڈے مارنے شروع کردئیے۔ میں نیچے گرگئی لیکن اس کے باوجود اس نے مجھے مارنا پیٹنا جاری رکھا حتیٰ کہ میری حالت غیر ہوگئی۔ میرے ساتھ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا یہ آئے روز کی بات تھی اور نہ صرف میرا کفیل بلکہ اس کی اہلیہ بھی مجھ پر تشدد کرتی تھی۔ مجھے اس گھر میں روزانہ تقریباً 19گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا۔ میں صبح چار بجے اٹھ جاتی تھی اور رات 11 بجے سے پہلے مجھے سونے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ مجھے صرف وہی چیز کھانے کی اجازت تھی جو ان سے بچ جاتی تھی۔ اس گھر میں چھ ماہ کام کرنے کے باوجود بھی میں خالی ہاتھ تھی۔ جب میں سعودی عرب گئی تو مجھے حالات کا کچھ علم نہیں تھا۔ میں ایجنٹ کی باتوں میں آکر وہاں گئی تھی۔ مجھے پہلے دبئی لیجایا گیا اور پھر وہاں سے ابحا۔“

اشما کا کہنا تھا کہ ان کے گھر والوں نے انہیں واپس لانے کیلئے تگ و دو کی اور خوش قسمتی سے وہ رواں سال مارچ میں واپس آنے میں کامیاب ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک میں ان جیسی کئی غیرملکی خواتین ناقابل بیان مصائب میں مبتلا ہیں۔

saudia

ایک بھارتی این جی او کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال انہیں خلیجی ممالک میں لاپتہ ہونے والے 86 بھارتی شہریوں کے کیس موصول ہوئے۔ ان میں سے 13 تاحال لاپتہ ہیں۔ این جی اوز اور بھارتی حکام کی مدد سے باقیوں کا سراغ لگالیا گیا اور انہیں واپس لایا جاچکا ہے۔

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …