Home » Interesting News » ’میں نے تنگ آکر اپنے آپ کو کئی سال بڑی اس کویتی خاتون کو فروخت کردیا، اب وہ میری۔۔۔‘ 33 سالہ عرب نوجوان نے ایسا انکشاف کردیا کہ آپ کو یقین نہیں آئے گا ایسا بھی ہوسکتا ہے

’میں نے تنگ آکر اپنے آپ کو کئی سال بڑی اس کویتی خاتون کو فروخت کردیا، اب وہ میری۔۔۔‘ 33 سالہ عرب نوجوان نے ایسا انکشاف کردیا کہ آپ کو یقین نہیں آئے گا ایسا بھی ہوسکتا ہے

استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک) جنگ سے متاثرہ ملک شام کی خواتین کی خرید و فروخت کی خبریں تو آئے روز سامنے آتی ہیں لیکن ان شامی مردوں کا تذکرہ کم ہی سننے کو ملتا ہے جو حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود کو بیچ رہے ہیں۔
ویب سائٹ ’نیوز ڈیپلی‘ کے مطابق شامی مردوں میں یہ رجحان ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے۔ ترکی میں بطور پناہ گزین مقیم ایک شامی نوجوان الیاہ نے اپنی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ وہ استنبول میں ایک تہہ خانے میں اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ مقیم تھا۔ وہ ایک ویٹر کے طور پر کام کرتا تھا اور کرایہ اور بل ادا کرنے کے لئے اسے روزانہ 12 گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا۔ وہ اپنے خاندان کو یورپ منتقل کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ کسی سمگلر کو ادائیگی کرکے اپنے اہلخانہ کو یورپ لیجاسکے۔ ایسے حالات میں ایک کویتی خاتون کی جانب سے اسے بھی شادی کے بدلے بھاری رقم کی پیشکش آ گئی اور وہ اس جال میں پھنس گیا۔
الیاہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ”میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن مجھے اپنا جسم کسی ایسی خاتون کو فروخت کرنا پڑے گا جس سے میں محبت نہیں کرتا۔ مجھے رقم کی شدید ضرورت تھی اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا لہٰذا مجھے یہ کام کرنا ہی پڑا۔ میری عمر 33 سال ہے لیکن جس خاتون سے میں نے شادی کی اس کی عمر 45 سال تھی۔ میری اس سے پہلی ملاقات ریسٹورنٹ میں ہی ہوئی جہاں وہ ریگولر کسٹمر تھیں۔ ایک شام جب وہ اپنی فیملی کے ساتھ آئیں تو میری شفٹ کے اختتام پر انہوں نے اپنے ساتھ کھانے میں شامل ہونے کیلئے کہا۔ میں سمجھا کہ وہ محض حسن سلوک کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن کھانے کے دوران جب انہوں نے مجھے شادی کی پیشکش کی تو میں بے اختیار ہنسنے لگا۔
تین دن بعد وہ لوگ دوبارہ آئے اور مجھے 10 ہزار ڈالر (تقریباً 10 لاکھ پاکستانی روپے) کی پیشکش کی۔ یہ اتنی رقم تھی کہ جس سے میں اپنی فیملی کو یورپ بھیج سکتا تھا۔ انہوں نے مجھے 500 ڈالر ماہانہ دینے کی پیشکش بھی کی۔ ان کی بس ایک شرط تھی کہ مجھے 10ہزار ڈالر کی ادائیگی شادی کے دو سال مکمل ہونے پر کی جائے گی اور میں نے یہ پیشکش قبول کر لی۔
شادی کے بعد ہم استنبول کے ایک فلیٹ میں رہنے لگے۔ میں زندگی میں پہلی بار ایک اچھی جگہ رہائش اختیار کرنے پرخوش تھا لیکن بدقسمتی سے میری اہلیہ میرے ساتھ ایسا سلوک کرتی تھیں جیسے انہوں نے ایک غلام کے طور پر مجھے خریدا ہو۔ ہمارا تعلق شادی سے زیادہ غلامی جیسا تھا اور اسی طرح ایک سال گزر گیا۔ اب ان کی طرف سے رقم کی ادائیگی بھی نہیں کی جارہی تھی جس پر بالآخر میں نے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے دی۔ اس نے میری دھمکی کے آگے گھٹنے ٹیک کر پیسے دینے کی بجائے طلاق کے لئے عدالت کا رخ کر لیا اور یوں یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ میں نے ایک سال تک محض خود کو ذلیل کیا اور مجھے کچھ رقم بھی حاصل نہیں ہو ئی۔ مجھ سے طلاق لینے کے بعد میری اہلیہ نے کچھ ہی عرصے بعد ایک اور شخص سے شادی کرلی۔ بہت سے اور لوگ بھی یہ کام کررہے ہیں لیکن اس کا انجام ذلت و رسوائی کے کچھ نہیں ہے۔“

 

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

#paksa #paksa.co.za چینی انجینئر رائیونڈ سے پسند کی لڑکی بیاہ کر لے گیا

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی …