Home » Interesting News » ’میں ہمیشہ تھکا ہوا کیوں رہتا ہوں؟‘ وہ دلچسپ سوالات جو گوگل سے سب سے زیادہ پوچھے جاتے ہیں

’میں ہمیشہ تھکا ہوا کیوں رہتا ہوں؟‘ وہ دلچسپ سوالات جو گوگل سے سب سے زیادہ پوچھے جاتے ہیں

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ٹیکنالوجی کے اس دور میں لوگوں کو انٹرنیٹ کی اس قدر عادت ہو چکی ہے کہ کسی مرض کی صورت میں بھی وہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے اپنی علامات کو ’گوگل‘ کرکے دیکھتے ہیں اور اس کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اب ماہرین نے اس طرزِ عمل کو خطرناک قرار دے دیا ہے کیونکہ گوگل اکثر ایسے سوالات کے نامکمل یا غلط جوابات دیتا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل محض ان علامات کی بنیاد پر نتائج دکھاتا ہے جو صارف اسے بتاتا ہے۔رائل کالج آف جی پیز کی صدر پروفیسر ہیلن سٹوکس لیمپرڈ کا کہنا ہے کہ”گوگل کے پاس صارف کا میڈیکل ریکارڈ نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے ہماری زندگیوں کے حالات سے آگاہی ہوتی ہے، چنانچہ وہ وسیع تر تناظر میں نتائج نہیں دکھا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل کی نصیحت ادھوری تو ہوتی ہے، بسااوقات غلط بھی ہوسکتی ہے۔“

تجرباتی طور پر ماہرین نے گوگل سے ایک سوال پوچھا کہ کیا ’گلے پڑنا‘(Tonsillitis)وبائی مرض ہے؟کئی ویب سائٹس نے اس کا قدرے درست جواب دیا کہ گلے پڑنا وبائی مرض نہیں ہے، لیکن اکثرویب سائٹس پر اس کے برعکس جواب موجود تھا اور انہوں نے اسے وبائی مرض لکھ رکھا تھا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ” کئی اقسام کے وائرس یا سٹریپٹوکوکس (Streptococcus)نامی بیکٹیریاکی وجہ سے ہونے والی انفیکشن گلے پڑنے کا باعث بنتی ہے“ لیکن اکثر ویب سائٹس نے اس کی وجہ کچھ اور ہی بیان کر رکھی تھی۔اس کے علاوہ ماہرین نے خراٹوں، ہمیشہ تھکاوٹ کا شکار رہنے کی وجوہات اور بلڈپریشر کم کرنے کے طریقوں سمیت کئی سوالات گوگل سے پوچھے جن کے جوابات نہ صرف انتہائی غیرتشفی بخش تھے بلکہ اکثر ویب سائٹس نے غلط بیان کر رکھے تھے۔

 

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …