Home » Interesting News » وہ ملک جہاں مسلمانوں کی بھاری تعداد موجود ہے لیکن اب پردہ کرنے والی خواتین کو 90 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا

وہ ملک جہاں مسلمانوں کی بھاری تعداد موجود ہے لیکن اب پردہ کرنے والی خواتین کو 90 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا

parda

صوفیہ (نیوز ڈیسک)مسلمانان عالم کی بدقسمتی دیکھئے کہ ایک جانب اسلامی ممالک غربت، پسماندگی اور انتشار کی دلدل میں دھنس رہے ہیں اور دوسری جانب مغرب ان کی اقدار اور ثقافت کو ختم کرنے کے لئے متحد ہو چکا ہے۔ مغربی ممالک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب آخری حدوں کو چھونے لگا ہے اور مسلمانوں کے لئے اپنے مذہبی احکامات پر عمل پیرا ہونا بھی ایک جرم بن گیا ہے۔ فرانس اور نیدر لینڈز جیسے ممالک میں نقاب اور برقعے پر پابندی عائد کی جا چکی اور اب بلغاریہ، جس کی 12 فیصد آبادی مسلمان ہے، بھی یہی پابندی عائد کرنے کی تیاری مکمل کرچکا ہے۔

اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق بلغاریہ کی پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد نقاب اور برقعے پر پابندی عائد کرنا ہے۔ پیٹریاٹک فرنٹ پارٹی کی طرف سے پیش کئے گئے اس بل کو 108 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہوگئی ہے جبکہ صرف 8 نے اس کی مخالفت کی ہے۔ مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا لباس جو چہرے کو ڈھانپتا ہو اسے سرکاری دفاتر، سکولوں، ثقافتی اداروں اور عوامی مقامات پر پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر 1500 لیوا (تقریباً 90 ہزار پاکستانی روپے) کے جرمانے کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے، جبکہ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کوئی دوبار سے زائد اس پابندی کی خلاف ورزی کرے تو اسے حکومت کی طرف سے دئیے جانے والے تمام سماجی فوائد سے محروم کردیا جائے۔
فرانس میں یہ پابندی 2010ءمیں عائد کی جاچکی ہے جبکہ رواں سال مئی میں نیدر لینڈز نے بھی، سکولوں، ہسپتالوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں نقاب اور برقعہ پہننے پر پابندی عائد کردی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تعصب کا عالم دیکھئے کہ ایک رپورٹ کے مطابق یورپی ملک لیٹویا میں صرف 3خواتین نقاب پہنتی تھیں لیکن وہاں بھی نقاب پر پابندی عائد کردی گئی تاکہ یہ تین خواتین بھی نقاب نہ پہن سکیں۔

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …