Home » Interesting News » پانچ روپے کے سکے سے ٹائر کی ساخت جانچنے کا انتہائی مفید اور کار آمد طریقہ

پانچ روپے کے سکے سے ٹائر کی ساخت جانچنے کا انتہائی مفید اور کار آمد طریقہ

tayreلاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)گاڑی کے ٹائرز کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ،گاڑی کے ٹائرز کے ساتھ لاپرواہی نہ برتی جائے اور اس کو اچھی طرح چیک کیاجائے تو حادثات سے کافی حد تک محفوظ رہا جا سکتاہے ۔تفصیلات کے مطابق ٹائرز کو چیک کرنے کیلئے بہت سے طریقے ہیں جس کی مدد سے آپ ٹائر کی ساخت اور اسے تبدیل کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کا سب سے آسان اور دنیا بھر میں آزمودہ طریقہ پانچ روپے کے سکے سے جانچنے کا ہے۔
پاک ویلز کے مطابق برطانیہ، یورپ اور آسٹریلیا میں ٹائر ٹریڈ ملی میٹر میں ناپے جاتے ہیں جبکہ امریکا میں انچ کے 32ویں حصے کے طور پر پیمائش کی جاتی ہے۔ نئے ٹائر کے ٹریڈ گاڑی کے اعتبار سے مختلف ہوسکتے ہے۔ بڑی گاڑیوں جیسے SUV کے ٹائرز ٹریڈ عام گاڑیوں کے مقابلے میں کچھ مختلف ہوتے ہیں اور بالکل یہی معاملہ موٹر سائیکل میں بھی ہے۔ یہاں ہم عام ٹائرز سے متعلق بات کر رہے ہیں۔
ٹائر کی ساخت جانچنے کیلئے آپ کو صرف پانچ روپے کا سکا درکار ہے اور اس طریقے پر عمل کرتے ہوئے آپ اپنے ٹائرکی ساخت کو چیک کر سکتے ہیںاور جان سکتے ہیں کہ آیا ٹائر کی معیاد ختم ہو گئی ہے او ر سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا آپ کی گاڑی کا ٹائر ابھی ٹھیک ہے ۔
1: پانچ کا سکہ لیں اور اسے ٹائر میں بنے ڈیزائن کے درمیان میں ڈال دیں۔
2: پانچ کے سکے پر موجود چاند کا رخ اوپر کی طرف رکھیں اور سکے کو ٹائر پر رگڑتے ہوئے نیچے لے کر جائیں۔
3: چاند کے نیچے لکھا ہوا سال (جیسے 2005، 2012 وغیرہ) نظر نہ آئے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا ٹائر نیا ہے اور اس کا ٹریڈ تقریبا 8 ملی میٹر ہے۔
4: اگر چاند کے نیچے لکھا ہوا سال ظاہر ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا ٹائر استعمال شدہ ہے اور اس کا ٹریڈ 5 ملی میٹر کے آس پاس ہے۔
5: اب آپ سکے کو گھماتے ہوئے نیچے لے کر جائیں تاوقتیکہ چاند دوبارہ اپنے رخ پر واپس آجائے۔
6: اب سال کے ہندسوں کے نیچے موجود ڈیزائن پر غور کریں، اگر وہ مکمل طور پر غائب نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے ٹائر ٹریڈز 3 ملی میٹر رہ گیا ہے۔
7: آخر میں، اگر ڈیزائن ٹریڈ کے اندر بالکل غائب ہوگیا ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ گاڑی کے ٹائر تبدیل کرنے کا وقت آگیا ہے۔

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …