Home » Interesting News » پاکستان کی تاریخ کا وہ جیالا جس نے بھارت کے ساتھ پانی کا سمجھوتہ کرنے پر صدر پاکستان کو ایسا خط لکھ ڈالا کہ صدر پاکستان نے تلملا کر سخت ترین آرڈرجاری کردیا،یہ جیالا کون تھا اور اسٹبلشمنٹ نے اس حکم پر کیا عمل کیا ،جانئیے تاریخ کا یہ سنہری واقعہ

پاکستان کی تاریخ کا وہ جیالا جس نے بھارت کے ساتھ پانی کا سمجھوتہ کرنے پر صدر پاکستان کو ایسا خط لکھ ڈالا کہ صدر پاکستان نے تلملا کر سخت ترین آرڈرجاری کردیا،یہ جیالا کون تھا اور اسٹبلشمنٹ نے اس حکم پر کیا عمل کیا ،جانئیے تاریخ کا یہ سنہری واقعہ

لاہور (ایس چودھری) صدر ایوب جب اقتدار میں تھے تو کسی کو ان کے مراتب نظر انداز کرکے خط لکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن تاریخ میں ایک ایسا شخص بھی گزرا ہے جس نے صدر ایوب کو نہایت سخت خط لکھ ڈالا تھا ،یہ ایسا خط تھا جسے ان تک پہنچانے والوں کے پر بھی جل جانے کا خدشہ تھا لیکن ضوابط کے تحت خط ان تک پہنچایا گیا اورصدر ایوب خان نے بڑی ناگواری سے اس پر ایسے ریمارکس لکھے جس کے بعد امید تھی ساری حکومتی مشنری اس کے پیچھے پڑ جاتی ۔یہ مسعود کھدر پوش تھے۔ وہ انسانی حقوق کے سرگرم رہ نما تھے،م ب خالد نے اپنی کتاب ’’ایوان صدر میں سولہ سال‘‘ میں اس واقعہ کو جزئیات سے بیان کیا ہے ،وہ اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں’’ مسعود کھدر کا کرتا پاجاما پہننے الگ پہچان رکھتے تھے حالانکہ سول سروس آف پاکستان سے متعلق تھے بلکہ برصغیر کی تقسیم سے پہلے انڈین سول سروس میں تھے۔

۱۹۶۰ء میں ایوب خاں اور جواہر لال نہرو کے درمیان دریاؤں کے پانی کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ ایوب خاں نے اپنی خود نوشت سوانح حیات میں اس معاہدے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ بھارت کے ساتھ اس معاہدے سے ایسی فضا پیدا ہوگی کہ کشمیر کے مسئلہ کے حل کی کوئی صورت نکل آئے گی۔
مسعود کھدر پوش ان دنوں ایگریکلچرل کمشنر تھے اور شہاب صاحب سے ملنے ایوان صدر آیا کرتے تے۔ راقم سے بھی دعا سلام ہوتی تھی۔ معاہدہ پر دستخط ہوئے ابھی چند روز ہی ہوئے تھے کہ ان کا دو صفحات پر حاوی سرکاری پیڈ پر ٹائپ شدہ خط ایوب خاں کے نام موصول ہوا جو ہر لحاظ سے قابل گرفت تھا۔
خط میں معاہدے پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ لہجہ میں گستاخی تھی اور یہاں تک لکھا تھا کہ جناب صدر آپ کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔

میں نے لفافہ کھولا تو شہاب صاحب کے پاس لے گیا۔ انہوں نے پڑھا تو کہنے لگے کہ میرے پاس چھوڑ جاؤ۔ دوسرے دن دوبارہ بلا کر واپس کر دیا کہ پریذیڈنٹ صاحب کو دوسری ڈاک کے ساتھ بھیج دو۔۔۔اگلے دن پریذیڈنٹ صاحب سے ڈاک واپس آئی تو ایوب خاں نے حاشیے میں سیکرٹری سٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھا تھا
Will somebody put some sense in to this men’s head
شہاب صاحب نے ڈاک دیکھ کر میرے پاس بھیج دی۔ میں یہ خط پھر ان کے پاس لے گیا کہ کیا کروں۔ ایوب خاں کے حکم پر عمل درآمد کا مطلب مسعود کھدر پوش کا شکنجہ کسنا تھا۔ شہاب صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ کہنے لگے ’’ مسعود مارا جائے گا۔ ایسے کرو کچھ دن اس خط کو اپنے پاس رکھ چھوڑو‘‘ میں پریذیڈنٹ صاحب سے بات کروں گا۔
بعد میں جب بھی پوچھا، جواب دیا، ابھی رکھئے موقع نہیں مل سکا۔
ایک مہینہ، دو مہینے ، کرتے کرتے سال کے قریب گزر گیا اور خط میرے پاس پڑا رہا۔
ایک دن مسکرا کر کہنے لگے’’ پریذیڈنٹ سے بات ہوگئی ہے خط کو ضائع کر دو‘‘ میں مطلب سمجھ گیا چنانچہ واپس کمرے میں آکر الماری سے خط نکالا اور پرزے پرزے کر دیا۔
اس دوران مسعود صاحب معمول کے مطابق شہاب صاحب سے گپ شپ کے لئے کئی دفعہ تشریف لائے۔ مجھ سے بھی پہلے کی طرح دعا سلام ہوتی رہی مگر اب ان سے مصافحہ کرنے میں لطف سوا تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے واقعی کسی نر مرد سے مصافحہ کیا جا رہا ہے۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا‘‘

 

#paksa

#paksa.co.za

Check Also

#paksa #paksa.co.za چینی انجینئر رائیونڈ سے پسند کی لڑکی بیاہ کر لے گیا

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی …