Home » Pakistani Headlines » پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے جمہوریت کا تسلسل ضروری، چنداختلافات کے باوجود پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آرہی ہے: امریکی قونصل جنرل

پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے جمہوریت کا تسلسل ضروری، چنداختلافات کے باوجود پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آرہی ہے: امریکی قونصل جنرل

jhori

لاہور ( عمر شامی/عثمان شامی)امریکہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور پائیداری کی مکمل حمایت کرتاہے کیونکہ پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے جمہوریت کا تسلسل بہت ضروری ہے ۔پاکستانی عوام کوسمجھنا چاہئے کہ جمہوریت کے استحکا م کیلئے وقت درکار ہوتا ہے ۔اگر آپ دنیا میں بھارت یا کسی بھی اور دوسری جمہوریت پر نظر ڈالیں توآپ کو احساس ہوگاکہ یہ ایک روزکاعمل نہیں ہے بلکہ ان لوگوں نے جمہوری تسلسل کو جاری رکھااور اسے وقت کیساتھ ساتھ بہتر بنایا ۔ان خیالات کا اظہار لاہور میں امریکی قونصل جنرل مسٹرزیکری ہارکن رائڈرنے’’ روزنامہ پاکستان ‘‘کے ساتھ خصوصی الوداعی انٹرویو میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت بحث ، مکالمے اور عوامی مظاہروں کے ذریعے معاشرے میں دباؤ ڈالنے کا وسیع موقع فراہم کرتی ہے ۔دوسری طرف اختلافات کے باوجودجمہوریت پرامن بحث کیلئے وسیع ماحول بھی فراہم کرتی ہے ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیاکہ طویل جمہوری عمل پاکستان میں جمہور ی اقدار کوفروغ دے گااور انتہا پسند رجحانات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

امریکی قونصل جنرل کا کہنا ہے کہ میرے تین سالہ قیام کے دوران گزشتہ کچھ عرصہ میں سامنے آنے والے چند بڑے اختلافات کے باوجود پاک امریکہ تعلقات میں بدستور بہتری آئی، میں کہنا چاہوں گا کہ تعلقات میں تیزی سے بہتری آرہی ہے۔ہرتعلق میں کچھ نہ کچھ اختلافات ہوتے ہیں ، ہمارے تعلقات بھارت ، چین اور حتیٰ کہ اسرائیل کیساتھ بھی اچھے نہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ اختلافات ختم کرکے مل کر کام کرنا چاہئے اور ہم ایسا ہی پاکستان کیساتھ کررہے ہیں۔واضح رہے کہ مسٹرہرکن رائیڈر تجربہ کار اورترقی یافتہ ممالک میں ایک عشرے سے زائدعرصہ خدمات سرانجام دینے کا تجربہ رکھنے والے سفارتکار ہیں۔ وہ 2013ءمیں ڈپٹی پولیٹیکل قونصلر کے طورپراسلام آباد سفارتخانے میں آئے اور مئی 2014ءمیں قونصل جنرل لاہور کا عہدہ سنبھالا اور آئندہ ماہ چھوڑرہے ہیں۔مسٹرہرکن رائیڈرنے پاک امریکہ تعلقا ت کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اختلافات کے باوجود پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آئی ،پاکستان کا مستقبل پرامیدہے،انہوں نے پاک امریکہ تعلقا ت میں بہتری کے حوالے سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تبادلہ خیالات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا پاکستان دنیا کے فل برائیٹ پروگرامز کے حوالے سے سب سے زیادہ مراعات لینے والے ممالک میں شامل ہے۔گزشتہ مالی سال میں تبادلوں کے مختلف پروگرامز کے تحت 2400سے زیادہ پاکستانیوں کو امریکہ بھجوایا گیا۔ان کے مطابق گزشتہ سال جون میں نیو یارک میں ہونے والی چوتھی سالانہ ”امریکہ پاکستان تجارتی مواقع کانفرنس“ کے موقع پردونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان باہمی بات چیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔کانفرنس میں فیشن،ہیلتھ کیئر،انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشن ٹیکنالوجی اور زراعت جیسے شعبوں سے متعلق تاجروں کو ایک ساتھ لایا گیا۔ایک سوال کے جواب میں قونصل جنرل نے پاکستانی معیشت کے مستقبل کو پرامید قرار دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایل این جی اورکوئلے کے پراجیکٹ 2017 کے اختتام تک بروقت مکمل ہو گئے تو سسٹم میں 5ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہو جائے گی جو کہ تقریبا شارٹ فال پر قابو پالے گی۔معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر پاکستان توانائی بحران پر قابو پالیتا ہے تو اس کے گروتھ ریٹ میں ہونے والا دو فیصد اضافہ اسے دنیا کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ممالک کی صف میں لاکھڑا کرے گا۔امریکی قونصل جنرل کے مطابق یو ایس ایڈ نے بجلی کی تقیسم کارکمپنیوں کو اپنے سسٹم میں مزید جدت لانے پر زوردیا ہے،اس سلسلے میں 23ہزار ڈیجیٹل میٹرزلگیں گے،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے تقسیم کے عمل میں بہتری لانے کیلئے100ملین ڈالر زمنتقل کئے گئے ہیں جن کا مقصد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو اربوں روپے کے لائن لاسز سے بچا ناہے۔

انہوں نے کہا یو ایس ایڈ کے لاگو کردہ لوڈمینجمنٹ سسٹم نے تقسیم کار کمپنیوں کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پائیں اس سے نہ صر ف ان کی کارکردگی بڑھی ہے بلکہ وہ 94فیصد تک اس قابل ہو گئے ہیں کہ غیرا علانیہ لوڈشیڈنگ پر قابو پاسکیں۔مزید یہ کہ اس سے 1200میگاواٹ بجلی بھی بچ گئی ہے۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں پاکستانیوں کی جس بات سے میں بے حد متاثر ہوا ہوں وہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف اٹھنے والی آواز ہے جس میں لوگوںنے انسداد دہشت گردی پر بات کی ،اور بغاوت کے خلاف مثبت طریقوں سے کارروائی کی گئی۔اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ ملک میںطالبان کی جانب سے عام شہریوں پر دہشت گردی کے اشتعال انگیز حملے دیکھنے کے بعد سمجھ گئے کہ یہ ان کی اپنی جنگ ہے اور انہیں ہی اس کو اپنانا ہو گا اور پوری قوت کے ساتھ اس میںشامل ہونا ہے۔انہوںنے کہا آ ج کا پاکستان اس وقت سے بہت بہتراور متحد ہے جس وقت میں یہاں آیا تھا۔انہوں نے آپریشن ضرب عضب میں حاصل ہونے والی کامیابیوںاور اس کی مدد سے ریاستی رٹ کے قائم ہونے کو بھی سراہا۔انہوں نے نیشنل ایکشن پلان سے کئی خطرات پر قابو پانے اور ریاست کے دہشت گردی کے خلاف ایکشن کی بھرپور صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا۔انہوں نے قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے خیالات سے اتفاق کیا کہ پاکستان میں داعش کو قدم جمانے کا موقع نہیں دیا جا سکا۔تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ کچھ عسکریت پسند عناصر داعش کی ان فرنچائز وں سے جڑ سکتے ہیں جو آج کل یورپ کیلئے بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ آپ نے پاکستان کو کیسا پایا تو انہوں نے کہا کہ یہاں آنے سے قبل میں نے بھارت اور افغانستان میں خدمات سرانجام دیں اس لئے پاکستا ن کو اکثر افغانیوں یا بھارتیوں کی نظر سے دیکھا لیکن میں یہاں آیا مثبت ذہن کے ساتھ آیا تو مجھے یہاں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور بہت مثبت پایا۔پاکستانی بہت محنتی ہیں ،تعلیم،ملازمت سمیت ہرشعبہ زندگی کے حوالے سے بہتر انڈرسٹینڈنگ رکھتے ہیں۔یہ کسی بھی ریاست کی معاشی و سماجی ترقی کیلئے ضروری صفات ہیں اور پاکستانیوں میں یہ صفات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔

مسٹرہرکن رائیڈرنے مزید کہا کہ پاکستانیوں میں سماجی ہم آہنگی و اتحاد اسے خطے کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں خدمت خلق کا جذبہ بہت نمایا ں ہے۔اگرچہ یہاں کے وہ لوگ جو ٹیکسز نہیں دیتے وہ کھلے دل سے خیرات کرتے ہیں جس سے معاشرے پر مثبت اثرات رونما ہوئے ہیں۔ہرکن رائیڈر کا کہنا تھا کہ اگرچہ دونوں ممالک میں تجارت کا حجم 5ارب ڈالرزہے۔قونصل جنرل نے لاہور میں گزرے ہوئے اپنے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یکم جنوری 2015کو لاہور میں قونصل آپریشن کی بحالی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔اس سے اسلام آباد میں موجودسفارتکاروں کو پنجاب کے قریب آنے میں مدد ملی۔ اس وقت سے کئی امریکی سیٹلائٹ لائبریریاں پنجاب کے کئی شہروں میں قائم کی جاچکی ہیں۔ہزاروں کسانوں کو پیداوار میں اضافے کیلئے تربیت دی گئی۔انہوں نے کہا کہ میں سکیورٹی رسک کی وجہ سے اپنے خاندان کو یہاں نہیں لا سکا اگر وہ یہاں ہوتے تو میں ایک سال اور لاہور میں قیام کرتا۔انہوں نے اردو نہ سیکھنے پر بھی دکھ کا اظہار کیا جس کی وجہ سے وہ پاکستانی میڈیا کو براہ راست مانیٹر کرنے سے محروم رہے۔انہوں نے امریکی انتخابات میں پاکستانیوں کی دلچسپی پر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔انہوںنے امریکی معاملات پر پاکستانی طالبعلموں کے گہرے مطالعے کی بھی تعریف کی۔خطے کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ افغانستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو سپورٹ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سول سوسائٹی نے کافی ترقی کی ہے۔ہم افغانستان کو مستحکم کرنے کیلئے مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہمارا مقصددیگر ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں ایسی کمیونٹی تیار کرنا ہے جو اپنے معاملات کو خود نمٹا سکے۔اگر طالبان سمجھتے ہیں کہ وہ جبرا طاقت حاصل کرسکتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔طالبان صرف اس صورت میں افغانستان کے سیاسی عمل میں شامل ہو سکتے ہیں اگرعدم تشدد اور پرامن مذاکرات کے راستے سے سیاسی عمل میں شامل ہوتے ہیں۔

پاک افغان سرحد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے واضح کیا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو دونوں ممالک صرف مذاکرات کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا یہ سچ نہیں ہے کہ ہم اقتصادی راہدر ی کی مخالفت کررہے ہیں۔یہ راہداری پاکستان کو خطے کی سب سے بڑی معیشت سے منسلک کر دے گی جو کہ ایک عظیم ڈویلپمنٹ ہے۔انہوں نے کہ دراصل ہم نے چین کے ساتھ اس پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل کیلئے تعاون کرنے کیلئے بات چیت کی۔

Check Also

معروف ٹی وی کمپیئر طارق عزیز 84 برس کی عمر میں‌ انتقال کر گئے

لاہور: معروف ٹی وی کمپیئر طارق عزیز انتقال کر گئے، انہوں نے فلموں میں بھی …