Home » Interesting News » #paksa #paksa.co.za دنیا کی وہ جگہ جہاں کسی بھی انسان کو جانے کی اجازت نہیں

#paksa #paksa.co.za دنیا کی وہ جگہ جہاں کسی بھی انسان کو جانے کی اجازت نہیں

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) جنگل ہوں بیابان یا سمندر میں واقع دورافتادہ جزیرے، آج دنیا میں کون سا خطہ ہے جہاں انسان نہیں پہنچ رہا، تاہم آج بھی ایک جگہ ایسی ہے جہاں کسی بھی انسان کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ جگہ بھارت کی سمندری حدود میں واقع جزیرہ ’نارتھ سینٹینل‘ ہے۔ ایسا نہیں کہ اس پر انسان نہیں بستے۔ یہاں سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال سے ایک قبیلہ آباد ہے جوبیرونی دنیا سے کسی بھی انسان کو اس جزیرے پر آنے کی اجازت نہیں دیتا اور جو آئے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت نے اس جزیرے پر کسی بھی انسان کے جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور وہاں جانا قانوناً جرم ہے۔ میل آن لائن کے مطابق 75ہزار سال سے زائد عرصہ قبل جب انسان افریقہ سے نکل کر باقی دنیا میں منتقل ہوا تو یہ لوگ مشرق وسطیٰ سے ہوتے ہوئے برما اور پھر انڈیا پہنچے اور ان میں سے کچھ اس جزیرے پر آباد ہوئے۔ تب سے جزیرے پر بسنے والے یہ لوگ تنہاءزندگی گزار رہے ہیں اور جو کوئی ان کے جزیرے پر جانے کی کوشش کرتا ہے اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔اب تک اس جزیرے پر پہنچنے اور اس قبیلے سے رابطہ کرنے کی سینکڑوں کوششیں ہو چکی ہیں لیکن یہ لوگ زہر میں بجھے ہوئے تیروں، پتھروں، نیزوں اور بھالوں سے باہر سے آنے والی ہر ٹیم کو مار بھگاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس جزیرے کا رقبہ صرف 20مربع میل ہے اور اندازے کے مطابق اس کی آبادی 300سے 400نفوس پر مشتمل ہے تاہم اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ آج تک بیرونی دنیا کا کوئی شخص یا ٹیم اس جزیرے پر جانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔اس کے قریب انڈیمان اور نیکوبار نامی جزائر بھی موجود ہیں جو کالے پانی کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ برطانوی سامراج کے دوران قابض برطانوی حکومت لوگوں کو کالے پانی کی سزا دے کر انڈیمان اور نیکوبار پر بھیج دیتی تھی۔ تاریخ میں سینٹینل جزیرہ بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ایک سروے ٹیم نے 1771ءمیں دریافت کیا تھا۔ اس ٹیم نے اپنی ایک رپورٹ میں اس جزیرے کا ذکر کیا۔ وہ اس کے پاس سے گزرے اور رکے بغیر آگے نکل گئے۔ انہوں نے اسے افسانوی جزیرہ قرار دیا تھا۔ 1867ءمیں انڈیمان پر قید کچھ لوگ فرار ہوگئے۔ انڈیمان کا انگریز افسر مقامی لوگوں کی مدد سے ان کی تلاش میں نارتھ سینٹینل جزیرے کی طرف جا نکلا۔ ابھی وہ ساحل سے کچھ دور تھے لمبے والوں ننگ دھڑنگ قبائلیوں نے تیر و نیزے سے ان کی کشتی پر حملہ کردیا۔ یہ قریب جائے بغیر واپس آگئے۔اسی سال انڈین نیوی کا ایک جہاز ساحل پر لنگر انداز ہوا جس میں سو سے زیادہ لوگ سوار تھے۔ وہ تین دن تک ساحل پر رہے۔ اس دوران مقامی قبیلہ کی طرف سے کسی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ شاید تعداد زیادہ ہونے پر وہ قبیلہ جزیرے کے اندر گھنے جنگلوں میں چھپ گیا ہو۔ تیسرے دن کچھ قبائلی جن کے سیاہ چہرے ناک پر سرخ رنگوں سے ڈیزائن تھے حملہ آور ہوئے ان کے نیزوں کے آگے لوہے کی انی لگی ہوئی تھی۔ نیوی کپتان کے مطابق وہ کچھ باتیں کررہے تھے یا نعرے لگارہے تھے ان کے الفاظ “pa on ought”جیسے تھے۔ مزید کسی تصادم سے پہلے یہ واپس لوٹ آئے۔

Share this:

Comments

Check Also

#paksa #paksa.co.za چینی انجینئر رائیونڈ سے پسند کی لڑکی بیاہ کر لے گیا

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی …