Home » Interesting News » #paksa #paksa.co.za سعودی عرب دنیا کو روزانہ 12 لاکھ بیرل تیل فروخت کرے تو کتنے سالوں بعد اس کے پاس تیل ختم ہو جائے گا؟ تیل کی دولت سے مالا مال ارضِ حرمین کے حوالے سے ایسی خبر سامنے آگئی کہ آپ بھی سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے

#paksa #paksa.co.za سعودی عرب دنیا کو روزانہ 12 لاکھ بیرل تیل فروخت کرے تو کتنے سالوں بعد اس کے پاس تیل ختم ہو جائے گا؟ تیل کی دولت سے مالا مال ارضِ حرمین کے حوالے سے ایسی خبر سامنے آگئی کہ آپ بھی سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے

لندن ( آن لائن)سعودی عرب دنیا بھر میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے ملکوں میں سر فہرست ہے اور قدرت نے بھی سعودی عرب کو تیل کی دولت سے اتنا مالا مال کیا ہے کہ پوری دنیا حسرت بھری نگاہوں سے ارض حرمین کی جانب دیکھنے پر مجبور ہے تاہم اب برطانوی خبر رساں ادارے نے سعودی عرب میں موجود تیل کے ذخائر کے حوالے سے ایسی رپورٹ شائع کی ہے جسے پڑھ کر آپ بھی حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے ،یاد رہے کہ حال ہی میں سعودی حکومت نے پاکستان کو تین سال کے لئے 9ارب ڈالر کا تیل ادھار دینے کی حامی بھر لی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی نئی حکومت معاشی صورتحال پر قابو پانے کے دعوی کر رہی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے ’’بی بی سی اردو‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی صورت میں وہ تیل کی عالمی مانگ کو پورا کر سکتے ہیں، ایسے میں سوال اٹھتا ہے سعودی عرب کے پاس کتنا تیل موجود ہے ؟گذشتہ پانچ دہائیوں سے اس سوال کا جواب تیل کے ذخائر کے ماہرین کے لیے ایک راز ہے۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے 2015 کے اندازوں کے مطابق سعودی عرب کے پاس 266 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں،اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو سعودی عرب کا تیل آئندہ 70 سالوں میں ختم ہوگا، اس حساب کے لیے اوسطً روزانہ 12 لاکھ بیرل کے استعمال کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ 1987 میں سعودی عرب نے اپنے ذخائر کی تعداد کے بارے میں کہا تھا کہ وہ 170 ارب بیرل ہیں تاہم 1989 میں انھوں نے اس تخمینے کی تعداد بڑھا کر 260 ارب بیرل کر دی تھی۔2016 کے سٹیٹسٹیکل ریوو آف ورلڈ انرجی کے مطابق سعودی عرب اب تک 94 ارب بیرل تیل فروخت کر چکا ہے تاہم ان کے سرکاری ذرائع کے مطابق ان کے پاس اب بھی 260 سے 265 ارب بیرل تیل موجود ہیں۔اگر حکومتی اطلاعات درست ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یا تو سعودی عرب نے تیل کے نئے ذخائر دریافت کیے ہیں یا پھر انھوں نے موجودہ ذخائر کا دوبارہ جائزہ لے کر انھیں تبدیل کر دیا ہے۔ذخائر میں اضافے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جن ٹھکانوں سے تیل برآمد ہو رہا ہے وہیں اور تیل نکل آیا ہے یا وہ کنویں پھر سے بھر گئے ہیں۔

سعودی عرب میں 1936 سے 1970 کے درمیان تیل کے بے شمار ذخائر دریافت ہوئے۔ جہاں جہاں تیل کی پیداوار ہو رہی ہے اس کی تفصیلات یا ذخائر کے بارے میں سعودی حکومت ہر بات خفیہ رکھتی ہے اور اس کی تفصیل کچھ ہی لوگوں کو معلوم ہوتی ہے،ایسے میں کسی بھی بات کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔ماہرین بھی یہ بات یقین سے نہیں بتا سکتے کہ سعودی عرب میں تیل کی پیداوار کب کم ہونی شروع ہوگی۔تیل کے ذخائر کا تخمینہ لگانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس بات کا اندازہ لگایا جائے کہ پیداوار شروع ہونے سے پہلے کتنے ذخائر موجود تھے،اس اندازے کو’’ او او آئی پی ‘‘کہا جاتا ہے۔ 1970 کی دہائی میں اس بات پر اتفاق رائے موجود تھا کہ سعودی عرب میں 530 ارب بیرل او او آئی پی موجود تھے۔سعودی او او آئی پی کے بارے میں معلومات سعودی عرب اور امریکہ کی مشترکہ آئل کمپنی آرمکو کے لیے امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے عالمی معاشی پالیسی نے دی تھیں۔اس وقت آرمکو چار امریکی کمپنیوں ایگزون، ٹیکسیکو، شیل، اور موبل کی شرکت دار تھی۔1979 میں پیش کی جانے والی معلومات وہ آخری موقعہ تھا جب عوامی پس منظر پر یہ معلومات جاری کی گئی تھیں تاہم مکمل او او آئی پی دخائر کو پیداوار میں لانا ممکن نہیں ہوتا،اس کی وجہ تکنیکی ہے۔ پہلی تو واضح ذخائر ہوتے ہیں جس کے بارے میں تخمینے سب سے زیادہ درست ہوتے ہیں۔ اس میں سے آپ تقریباً 90 فیصد حاصل کر لیتے ہیں۔دوسری قسم ممکنہ دخائر کی ہوتی ہے۔ ان کے حوالے سے امید اور اندازے ہوتے ہیں اور ان میں اندازوں کا 10 فیصد ہی نکالا جاتا ہے۔

امریکہ کی کمپنی آرمکو نے 1970 کی دہائی کے آخری سالوں میں سعودی عرب کے تیل کے مستند ذخائر 110 ارب بیرل بتائے تھے اس کے ساتھ ہی مستقبل اور ممکنہ ذخائر بلترتیب 178 ارب بیرل اور 248 ارب بیرل بتایا تھا۔ایسے میں سوال اٹھنے لگا کہ کیا سعودی عرب نے تیل کے ذخائر کو بڑھا چڑھا کر دکھانے کے لیے ممکنہ ذخائر کو حقیقی ذخائر بتا دیا؟دی سوسائٹی آف پیٹرولیم انجینئیرز اور یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے تیل کے ذخائر کے مختلف زمروں کی تعریف طے کی ہے۔ حالانکہ یہ واضح ہے کہ سعودی آرمکو نے اوپیک کو حقیقی تیل ذخائر کے بارے میں جو معلومات دیں ہیں وہ اسی تعریف کے تحت ہیں۔اس پر بھروسہ نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ یہ معلومات باہر والوں کے لیے خفیہ ہیں اور اس کی حقیقت کو پرکھنے کا کوئی راستہ نہیں۔یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ کوئی بھی ملک شروع میں اندازوں سے زیادہ تیل کے ذخائر پیدا کرتا ہے۔ نئے تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش سے کل تیل ذخائر میں اضافہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے اس سے ممکنہ ذخائر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔تیل کے ذخائر کے بارے میں کوئی بھی اندازہ حتمی نہیں ہو سکتا۔ کئی بار مستقبل میں نکلنے والے ذخآئر ممکنہ ذخائر کے ذمرے میں آ جاتے ہیں اور آخر میں حقیقی بن جاتے ہیں۔ لیکن سعودی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ 1980 سے ہی 265 ارب بیرلز کے آس پاس ہے۔

 

Check Also

#paksa #paksa.co.za چینی انجینئر رائیونڈ سے پسند کی لڑکی بیاہ کر لے گیا

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی …