Home » Interesting News » #paksa #paksa.co.za فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی بہن ہی فیس بک کے خلاف میدان میں آگئیں، ایسی بات کہہ دی کہ لوگ ویب سائٹ سے دور بھاگنے لگیں گے

#paksa #paksa.co.za فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی بہن ہی فیس بک کے خلاف میدان میں آگئیں، ایسی بات کہہ دی کہ لوگ ویب سائٹ سے دور بھاگنے لگیں گے

سان فرانسسکو(نیوز ڈیسک) فیس بک کے بانی مارک زکربرگ صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کے تہلکہ خیز سکینڈل کے سبب پہلے ہی پریشانیوں میں گھرے ہوئے تھے کہ اب ان کی اپنی بہن نے فیس بک کے بارے میں کچھ ایسا اظہار خیال کر دیا ہے کہ جس کی توقع مارک زکربرگ نہیں کبھی نہیں کی ہو گی۔ اس مقبول عام سوشل میڈیا ویب سائٹ کے قیام میں اپنے بھائی کا بھرپور ساتھ دینے والی رینڈی زکر برگ کو بہت شہرت اور دولت تو ملی لیکن اس کا کہنا ہے کہ فیس بک نے اسے بد ترین عدم تحفظ سے بھی دوچار کیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق مارک زکر برگ کی بڑی بہن 36سالہ رینڈی زکر برگ کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کی زندگی پر آج کل سوشل میڈیا کی وجہ سے دباؤ ہے کہ وہ ایک پرفیکٹ زندگی گزاریں، اور وہ کہتی ہیں کہ لوگوں کو اس دباؤ میں دھکیلنے کے لئے وہ خود کو بھی ذمہ دار سمجھتی ہیں اور وہ خود بھی اس دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔

رینڈی کا کہنا ہے کہ وہ خود کو قصور وار سمجھتی ہے کہ اپنے بچوں کو بروقت سلانے کے لیے ان کے پاس موجود نہیں ہوتیں اور جب وہ آن لائن جاتی ہے اور لوگوں کو دیکھتی ہے کہ جو بظاہر ایک کامل زندگی گزار رہے ہیں تو اس کی پشیمانی اور بڑھ جاتی ہے۔ دی ٹائمز سے بات کرتے ہوئے رینڈی کا کہنا تھا ’’میں کام کے سلسلے میں ہمیشہ سفر میں ہوتی ہوں لہٰذا میں اپنے بچوں کی پوری طرح دیکھ بھال نہیں کر پاتی ،میں انہیں رات کو بروقت سلانے کے لیے ان کے پاس موجود نہیں ہوتی۔ مجھے اس بات پر بھی پشیمانی ہے کہ میں ورز ش کیلئے جم اس قدر نہیں جا پاتی جتنامجھے جانا چاہیے۔ یقیناًاس سب میں میرا اپنا حصہ بھی ہے۔ آپ آن لائن دیکھتے ہیں اور دوسروں کی زندگی آپ کو بہت اچھی نظر آتی ہے۔

وہ اپنے دوستوں کو دیکھتے ہیں اور اپنے لیے مزید بڑے اہداف مقرر کرتے ہیں جیسے دیکھ کر میری پشیمانی میں اور اضافہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی توقعات سے بھرپور زندگی میں ہمیں تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں ، دوستیاں برقرار رکھ سکتے ہیں ، خود کو کام کیلئے وقف کر سکتے ہیں ، گھر والوں کے ساتھ وقت گزار کر سکتے ہیں ، اپنی فٹنس کا خیال رکھ سکتے ہیں، اور نیند بھی پوری کر سکتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم بیک وقت یہ سب کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم یہ توازن برقرار نہیں رکھ سکتے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہم یہ سب نہیں کر پا رہے لیکن سوشل میڈیا پر دوسرے لوگ ہمیں یہ سب کچھ کرتے نظر آتے ہیں تو ہمیں عدم تحفظ اور ناکامی کا احساس ہوتا ہے۔ فیس بک کی صورت میں لوگوں کے لئے عدم تحفظ کا یہ احساس پیدا کرنے میں میرا بھی کچھ حصہ ہے جس پر مجھے پشیمانی ہے۔‘‘

Check Also

تیزی سے پیٹ کی چربی پگھلانے والی 4 ورزشیں

دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران اگر آپ کا بھی وزن بڑھ گیا …